خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 707
خطبات طاہر جلد ۹ 707 خطبه جمعه ۲۳ نومبر ۱۹۹۰ء رہے تھے کہ اگر تم ایرانی کافروں کے ہاتھوں مارے جاؤ گے تو یقیناً جنت میں جاؤ گے۔خدا کے نزدیک تمہارا مرتبہ شہداء کا مرتبہ ہوگا اور اگر ان بد بختوں کو مارو گے تو ایک کا فر کو واصل جہنم کر رہے ہو گے۔یعنی ان کی تقریریں اور خطبات ایسے نہیں تھے کہ جو وقتی طور پر پیغام کی صورت میں لوگوں تک پہنچائے جارہے ہوں کھلم کھلا دنیا کے اخبارات میں یہ خبریں چھپتی تھیں۔روز مرہ یہ اعلانات ہوتے تھے۔ان کے ریڈیو، ان کے ٹیلیویژن ، ان کے اخبارات ان پروپیگنڈوں میں ہمیشہ منہمک رہے یعنی ۸ سال تک۔اب آپ اندازہ کریں کہ یہ حبل اللہ ہے جس کی قرآن کریم تعلیم دیتا ہے۔اب وہی عراق ہے جس کے ساتھ سارا عرب تھا اور یہ جو اسلام اور غیر اسلام کی جنگ جاری تھی اب اس نے مختلف روپ دھارے ہیں۔کبھی تو یہ سنی اسلام کی شیعہ اسلام سے جنگ قرار دی گئی۔کبھی بدکرداروں اور غاصبوں کی (جو حقیقت میں اسلام سے مرتد ہو چکے تھے ) ایمان والوں اور تقویٰ شعار لوگوں سے جنگ قرار دی گئی، کبھی اہل عرب کی عجمیوں سے جنگ بن گئی اور جو بھی عرب ممالک عراق کے ساتھ اکٹھے ہوئے در حقیقت محض اسلام کے نام پر نہیں اکٹھے ہوئے تھے کیونکہ ان کے دوسری جگہ شیعوں سے اسی طرح تعلقات تھے بلکہ بہت سے شیعہ اکثریت کے ممالک بھی عراق کے ساتھ اکٹھے ہو گئے اس لئے کہ عرب تھے اس لئے وہ جنگ عرب اور عجم کی جنگ بن گئی۔اس طرح انہوں نے عراق کی حمایت کی لیکن نام اسلام کا استعمال کیا کہ ظلم ہو رہا ہے۔ایک ایسا ملک جو حقیقت میں اسلام سے دور جا پڑا ہے وہ مسلمانوں اور عربوں پر حملہ کر رہا ہے یعنی دہرا گناہ کر رہا ہے اور اب آپ دیکھ لیں کہ عالم اسلام ( یعنی سنی عالم اسلام کہہ لیں یا عرب عالم اسلام ) عین بیچ سے دو نیم ہو چکا ہے اور بہت سے عرب مسلمان ممالک مل کر ایک بہت بڑے مسلمان ملک عراق کے مقابل پر اکٹھے ہو گئے ہیں اور جنگ کی آگ بھڑکنے کو تیار بیٹھی ہے جس کے متعلق قرآن کریم فرماتا ہے کہ اس وقت تم آگ کے کنارے پر کھڑے تھے، اللہ تھا جس نے اس سے تمہیں بچالیا۔پس ابھی اس آگ کے گڑھے میں یہ پڑے نہیں ہیں لیکن اگر قرآن کریم پر ان کا ایمان ہے اور اس آیت کا مطالعہ کرتے ہیں تو اس کے حوالے سے میں ان سب سے عاجزانہ التجا کرتا ہوں اور بڑی شدت سے التجا کرتا ہوں کہ خدا کے واسطے اس آیت کے درس آج کل اپنی مساجد میں ، اپنے ریڈیو پر، اپنے ٹیلیویژنز پر ، اپنے اخبارات میں دیں اور اپنے ملکوں کے باشندوں کو بتائیں کہ قرآن کریم تم سے کیا توقع کرتا ہے اور اگر تم لڑ