خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 703
خطبات طاہر جلد ۹ 703 خطبه جمعه ۲۳ نومبر ۱۹۹۰ء سکتا کہ میرا اس صاحب شریعت نبی سے ایک تعلق قائم ہو چکا ہے اللہ کی حبل کے ذریعے۔میں اپنے عہد بیعت میں جو روحانی معنوں میں میں نے اس سے جوڑا ہے یا باندھا ہے مخلص ہوں اور ثابت قدم ہوں اور اسی طرح شریعت سے میرا مخلصانہ تعلق ہے تو مجھے اب کسی اور چیز کی ضرورت نہیں ہے گویا میرا اسلام اسی سے کامل ہو گیا کہ میں نے ایک شارع نبی کو قبول کیا اور اس کی شریعت کے ساتھ اطاعت کا تعلق جوڑ لیا۔یہ ایک سوال جو پیدا ہوتا ہے اس کا جواب یہی آیت یہ دیتی ہے کہ وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللهِ جَمِيعًا اسلام سے مراد یہ نہیں ہے کہ تم شریعت سے تعلق جوڑ لو اور صاحب شریعت نبی سے تعلق جوڑ لو بلکہ "حبل اللہ سے مراد یہ ہے یعنی دوسرے معنوں میں اسلام سے مراد یہ ہے کہ اکٹھے رہ کر تعلق جوڑ و جہاں بھی تمہارا تعلق بظاہر قائم رہا اور آپس کا اتحاد ٹوٹ گیا وہاں تم اسلام کی حالت سے باہر نکل جاؤ گے۔پس صرف خدا کی رسی کو پکڑنا کافی نہیں خدا کی رسی کو اجتماعی طور پر پکڑ ناضروری ہے۔یہ ایک عظیم الشان مضمون ہے جس نے اس بات کی طرف توجہ مبذول کروائی کہ امت کا شیرازہ بکھرنے نہیں دینا ورنہ شریعت اور صاحب شریعت نبی سے تمہارا تعلق کوئی کام نہیں دے گا۔اگر تم بظاہر تعلق رکھتے ہوگے لیکن تمہاری حرکتوں کی وجہ سے تمہارے اعمال کی وجہ سے یا تمہارے اقوال کی وجہ سے امت کا شیرازہ بکھرنے لگے گا اور تم ایک دوسرے سے جدا ہونے لگو گے تو پھر حبل اللہ سے تمہارا تعلق حقیقی معنوں میں شمار نہیں کیا جائے گا اور خدا کے نزدیک تم سزا کے مستحق ٹھہرو گے۔پس اسلام کی یہ مزید تشریح ہے جو پہلی آیت سے ذہن میں نہیں ابھرتی تھی از خود ذہن اس طرف متوجہ نہیں ہوتا تھا لیکن دوسری آیت نے اس کو کھول کر بیان فرما دیا۔پس بیعت خلافت کی جو ضرورت پڑتی ہے وہ اس لئے نہیں کہ خلیفہ کوئی صاحب شریعت مامور ہوتا ہے بلکہ خدا کے صاحب شریعت رسول کے گزر جانے کے بعد اس قرآن کے یا اس کتاب کے باقی رہنے کے بعد جو ہر صاحب شریعت نبی کے بعد باقی رکھی جاتی ہے محض ان سے تعلق کافی نہیں ہے، پھر جمیعت کیسے نصیب ہوگی۔جمیعت مرکزیت سے نصیب ہوتی ہے اور نظام خلافت وہ جمیعت عطا کرتا ہے۔خدا سے تعلق ٹوٹ جائے تو پھر امتیں بکھر جاتی ہیں۔پس جب ایک امت دو فرقوں میں تبدیل ہو جائے یا تین یا چار یا پانچ فرقوں میں بٹ جائے اور ان میں کسی کا بھی خلافت سے تعلق قائم نہ ہو اور خدا کی رسی کو اس طرح نہ چمٹیں کہ گویا سب اکٹھے ہو گئے