خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 699
خطبات طاہر جلد ۹ 699 خطبه جمعه ۲۳ رنومبر ۱۹۹۰ء بیٹھا ہوا ہے اور اس کو کئی قسم کی خبریں مل سکتی ہیں۔ کئی قسم کے معاملات اسے پیش آسکتے ہیں۔ ایک آدمی اس کو بلا وجہ غصہ دلا سکتا ہے، اس کے مزاج کے خلاف بات کر کے اور بلا وجہ چڑا کر یا ایک ایسی خبر دے کر جس سے اس کا نقصان ہوتا ہو اور بد تمیزی کے انداز میں دل دکھانے کی خاطر اس کو اگر کوئی بری خبر دے تو عام ایسی خبر کے نتیجے میں جو اثر ہے اس سے کہیں زیادہ شدت کا عمل پیدا ہوتا ہے اور جو ردعمل ہے اس میں اکثر انسانوں کا اختیار نہیں ہوتا کہ اس رد عمل کو متوازن رکھیں ۔ اگر ایک انسان کسی عمل سے کسی کو تکلیف دیتا ہے اور غصہ دلاتا ہے ۔ مثلاً ایک چیڑ کسی نے مار دی تو فورا رد عمل یہ ہوگا کہ میں اس کو دس چیڑ میں ماروں ۔ ایک گالی دی تو ایک گالی کے جواب میں ایک گالی دے کر انسان رکتا نہیں بلکہ دس ، پچاس، سو گالیاں دے کر بھی بعض کا دل ٹھنڈا نہیں ہوتا۔ کسی کو ایک ٹھونکا لگا دیں تو وہ بعض دفعہ اتنی ذلت محسوس کرتا ہے کہ اس کے نتیجے میں مار مار کر جب تک کچومر نہ نکال دے اس کا دل ٹھنڈا نہیں ہوتا تو یہ جو رد عمل کی حالت ہے وہ باغیانہ حالت ہے وہ سپردگی کی حالت نہیں ۔ اس حالت میں اگر کوئی جان دے دے تو وہ اسلام کی حالت میں جان دینے والا نہیں ہوگا۔ اس سلسلے میں ایک لطیفہ حضرت مصلح موعود سنایا کرتے تھے کہ ایک دفعہ ایک بہت موٹا تازہ پہلوان اکھاڑے سے آ رہا تھا، خوب مالش کی ہوئی ، سر منڈھایا ہوا اور ٹنڈ کہتے ہیں جب بال بالکل نہ ہوں اور چکنی چپڑی کھوپڑی نظر آتی ہو تو اس کی ٹنڈ چمک رہی تھی ، اس کے پیچھے پیچھے ایک کمزور نحیف انسان جو اس کی پھونک کی مار بھی نہیں تھا وہ چلا آ رہا تھا۔ اس کو اس کا چمکتا ہوا صاف شفاف سر دیکھ کر شرارت سوجھی اور اس نے بھرے بازار میں اچھل کر اس کی ٹینڈ پر ایک ٹھونگ لگا دیا۔ وہ جس کو ہم پنجابی میں ٹھونگ مارنا کہتے ہیں ( ٹھونگا ہی غالباً اسکا اردو میں لفظ ہے ) بہر حال انگلی سے الٹی کر کے اس نے یوں سر پر ایک ٹھونکا لگایا، سارا بازار ہنس پڑا۔ غصے میں آکر اس کو اتنا مارا کہ نیم بے ہوش کر دیا۔ جب مار بیٹھا تو اس نے کہا کہ پہلوان جی ! آپ جتنا مرضی مار لیں مجھے اس ٹھونکے کا جو مزا آ گیا ہے۔ وہ آپ کو نہیں آ سکتا ۔ اب یہ ہے تو لطیفہ مگر اس میں فطرت کا ایک گہرا راز بیان ہوا ہے ۔ ایک شخص کو ہے بظاہر ایک ٹھونکا لگتا ہے لیکن وہ ایسی ذلت محسوس کرتا ہے اس کے نتیجے میں اس قدر خفیف ہو جاتا اور سمجھتا ہے کہ دنیا کی نظر میں میں بالکل ذلیل اور رسوا ہو گیا ہوں ۔ تو جو دل کا رد عمل ہے اس کے نتیجے میں پھر وہ بیرونی رد عمل دکھاتا ہے جو ہمیشہ حد سے بڑھا ہوا رد عمل ہوتا ہے اور اعتداء میں داخل ہو جاتا