خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 695
خطبات طاہر جلد ۹ 695 خطبه جمعه ۱۶ نومبر ۱۹۹۰ء کرنی چاہئے کہ جھگڑوں کی کنہ کو سمجھ کے ان کی تہہ تک پہنچ کر دونوں متقابل یا متصادم قوموں کو پہلی سٹیج پر سمجھایا جائے اور ساری دنیا کی اس نقطہ نگاہ سے تربیت کی جائے اور دنیا کی رائے عامہ کو بتایا جائے کہ یہ جھگڑے ہیں ، ان میں ہماری کمیٹیوں نے یہ کام کئے ہیں۔ یہ حقیقی صورت ابھر کر سامنے آئی ہے۔ پس حل تو اس سٹیج کے اوپر ایک دم نہیں سوچے جا سکتے کیونکہ یہ معاملے بعض صورتوں میں بہت الجھے ہوئے ہیں لیکن حل تلاش کرنے کی کوشش شروع کرنی ضروری ہے۔ پس جن لوگوں کو یعنی جن قوموں کو آج عراق میں یہ خطرہ دکھائی دے رہا ہے۔ میں ان کو ہزار خطرے سارے عالم میں پھیلتے ہوئے دکھا سکتا ہوں ۔ اگر وہ واقعی امن عالم کے خواہ ہیں تو جیسا کہ میں نے ان کو مشورہ دیا ہے وہ انصاف پر قائم ہو کر، اسلامی انصاف پر قائم ہو کر جو نہ مشرق جانتا ہے نہ مغرب ، نہ شمال اور جنوب کی تقسیم سے واقف ہے بلکہ محض اللہ کو پیش نظر رکھ کر ایک نظریہ انصاف پیش کرتا ہے اس اسلامی انصاف پر قائم رہ کر اگر یہ اپنے تنازعات کو حل کرنے یا دنیا کے تنازعات اور جھگڑوں کو حل کرنے کی کوشش کریں گے تو میں یقیں دلاتا ہوں کہ دنیا کو امن نصیب ہو سکتا ہے۔ لیکن محمد رسول اللہ ﷺ کے دست شفقت سے ہی یہ امن نصیب ہو سکتا ہے کیونکہ ایک ہی نبی ہے جس کو رحمۃ للعالمین قرار دیا گیا ہے۔ پس جسے خدانے دنیا کی سب قوموں اور سب جہانوں کے لئے رحمت بنا کر بھیجا ہے اس کے سامنے جب تک تم دست سوال نہیں بڑھاتے ، جب تک تم اس سے فیض نہیں پاتے تم دنیا کو امن نہیں عطا کر سکتے ۔ اس سلسلے میں جماعت احمد یہ کو ایک عالمگیر جہاد شروع کر دینا چاہئے اللہ تعالی ہمارے ساتھ ہو۔ آمین۔