خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 691
خطبات طاہر جلد ۹ 691 خطبه جمعه ۱۶ نومبر ۱۹۹۰ء میں جو عظیم الشان تعلیم عطا کی ہے اس تعلیم سے انحراف کسی مسلمان حکومت کو زیب نہیں دیتا۔پس ہم نے ان کی تائید نہیں کی لیکن یہ کہنا درست نہیں کہ یکطرفہ ظلم تھا۔امریکہ نے شاہ ایران کے ذریعے ایک لمبے عرصے تک ایسے مظالم توڑے ہیں ، ایران کے عوام پر اور اس طرح جبر و استبداد کا ان کو نشانہ بنایا گیا کہ اس کے نتیجے میں پھر دماغی توازن قائم نہیں رہتے۔پھر جب انتقام کا جذبہ ابھرتا ہے تو وہ کہاں متوازن سوچوں کے ساتھ صحیح رستوں پر چلایا جا سکتا ہے۔انتقام تو پھر اعتدال کی راہ نہیں دیکھا کرتا۔وہ تو سیلاب کی صورت میں ابھرتا ہے اور سیلاب کبھی یہ تو نہیں ہوا کرتا کہ دریاؤں کے رستوں کے اوپر بعینہ ان کی حدود میں چلیں۔سیلاب تو کہتے ہی اس کو ہیں جو کناروں سے اچھلنے والا پانی ہوتا ہے۔پس انتقام کے جذبے بھی کناروں سے اچھلتے ہیں اور ان کے نتیجے میں پھر یہ زیادتیاں ہوتی ہیں ، جیسے آپ نے دیکھیں لیکن اس پر جو انتقامی کارروائی پھر امیر ان کے خلاف کی گئی اس میں عراق کو استعمال کیا گیا اور عراق کو اس طرح استعمال کیا گیا کہ عراق کا ایران سے ایک تاریخی سرحدی اختلاف پایا جا تا تھا اور دونوں قوموں کے درمیان اس بات پر اتفاق نہیں تھا کہ کہاں ایران کی حدیں ختم ہوتی ہیں یا عراق کی ختم ہوتی ہیں اور ایران کی شروع ہوتی ہیں۔وہ خطرات ہمیشہ سے ترقی یافتہ بیدار مغز قوموں کی نظر میں تھے۔اس موقع پر ان کو استعمال کیا گیا۔اس موقع پر عراق کو شہ دی گئی اور مدد کے وعدے دیئے گئے۔میں نے جب پہلے اپنی کتاب Murder In The Name Of Allah میں یہ لکھا کہ سعودی عرب نے ان کی مدد کی تھی اور سعودی عرب نے ہی انگیخت کیا تھا تو بعض لوگوں نے مجھے کہا کہ ثبوت کیا ہیں؟ یہ تو آپ کے اندازے ہیں۔اب ثبوت سامنے آ گیا ہے۔سعودی عرب ڈنکے کی چوٹ پر کہہ رہا ہے کہ ایسا ظالم ملک ہے کہ ہم نے ہی تو اس کو لڑنے کی طاقت دی تھی۔ہم نے ہی تو اسیران کے مقابل پر اس کی پشت پناہی کی تھی اور اب ہمیں آنکھیں دکھانے لگا ہے تو کھل کر یہ حقیقت دنیا کے سامنے آچکی ہے۔میں یہ کہہ رہا ہوں کہ یہ جو خطرات مختلف جگہوں پر دبے ہوئے ہیں اور بے شمار ایسی قسمیں ہیں ان دبے ہوئے خطرات کی کشمیر کا جھگڑا بھی ان ہی میں شامل ہے اور بہت سے جھگڑے ہیں۔ان دبے ہوئے خطرات کو یہ تو میں دیکھتی ہیں اور اس کے با قاعدہ جس طرح جغرافیہ میں نقشے بنائے جاتے ہیں کہ کہاں کہاں کون کون سی معدنیات دفن ہیں اسی طرح سیاست کے نقشے بھی بنے