خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 684 of 845

خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 684

خطبات طاہر جلد ۹ 684 خطبه جمعه ۱۶ نومبر ۱۹۹۰ء ہے جب اپنی خارجہ پالیسی کو اس رنگ میں تشکیل دینے کی کوشش کرتے ہیں جوان بڑی قوموں کی قائم کردہ حدود سے تجاوز کرنے کے مترادف ہو جاتی ہے۔یعنی تجاوز اختیار کرنے لگتی ہے۔یعنی عملاً یہ ہو رہا ہے کہ بڑی تو میں چھوٹی قوموں کی خارجہ پالیسی اس طرح بناتی ہیں کہ انہوں نے خود بعض دائرے مقرر کر لئے ہیں۔ان دائروں کے اندر رہتے ہوئے یہ دوسری قوموں سے اپنے تعلقات اختیار کریں یا اُن میں تبدیلیاں پیدا کریں تو کوئی حرج نہیں لیکن جہاں ان دائروں سے باہر قدم رکھا وہاں ہم ضرور کوئی بہانہ ڈھونڈیں گے ان کے معاملات میں دخل دینے کا اور ان کو اس کی اجازت نہیں دی جائے گی۔تو برطانیہ بھی بذات خود عصبیتوں کا بھی شکار ہے اور ان کی عصبیت طرح طرح کے مظالم دنیا پر بھی توڑ رہی ہے۔نسلی عصبیتوں میں ہمیں مثال کے طور پر روس میں اس وقت بہت سے خطرات دکھائی دیتے ہیں۔نسلی عصبیتوں کے لحاظ سے ترک قوم اس وقت ایسے تاریخی دور سے گزر رہی ہے کہ اس میں نئے نئے قسم کے خیالات اور اُمنگیں پیدا ہورہی ہیں اور امر واقعہ یہ ہے کہ اس قوم نے آئندہ چند سالوں میں کوئی نہ کوئی ایسی حرکت کرنی ہے جس کے نتیجے میں بہت بڑے بڑے عالمی تغیرات بر پا ہو سکتے ہیں یا کل عالم کے امن پر اس کا اثر پڑ سکتا ہے۔میں نے گزشتہ خطبے میں بتایا تھا کہ ترکوں کی اکثریت ترکی سے باہر بستی ہے اور نصف سے زیادہ اُن میں سے سوویت یونین میں رہتے ہیں۔چنانچہ ترکی میں کل ترک ۴۴ ملین ہیں یعنی ۴ کروڑ ۴۰ لاکھ اور سوویت یونین میں ۴۲ ملین یعنی ۴ کروڑ اور ۲۰ لاکھ اِس طرح چین میں سے ملین گویا ان دونوں اشترا کی ملکوں میں بسنے والے ترک اپنی مجموعی طاقت کے لحاظ سے ترکی سے بھی زیادہ ہیں۔ترکی میں بسنے والے ترکوں سے بھی زیادہ ہیں لیکن ان کا رجحان ان ملکوں کی طرف نہیں جن میں یہ رہتے ہیں۔بلکہ تحرکی کی طرف ہے اور ترکوں کا رجحان بھی اب ان کی طرف ہے اور ان کی آنکھیں کھل رہی ہیں۔میں جب پرتگال اور سپین کے دورے پر گیا تو دونوں جگہ بلغاریہ کے ایمبیسیڈ رز نے مجھ سے ملاقات کی خواہش ظاہر کی اور ملاقات کی اور اُن سے گفتگو کے دوران مجھے معلوم ہوا کہ یہ دونوں ترکی سے خطرہ محسوس کر رہے ہیں چنانچہ زیادہ تفصیل سے جب چھان بین کی گئی تو مجھے محسوس ہوا کہ یہ ترکی سے اس وجہ سے خائف ہیں کہ انہوں نے ماضی میں ترک قوموں پر کچھ زیادتیاں کی ہوئی ہیں اور اب جبکہ روس کی حفاظت کا سایہ اُن کے سر سے اُٹھ رہا ہے تو اُن کو خطرہ یہ ہے کہ ہم ترکی کے رحم وکرم پر