خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 683 of 845

خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 683

خطبات طاہر جلد ۹ 683 خطبه جمعه ۱۶ نومبر ۱۹۹۰ء ہزاروں سال سے اونچی ذات کے ہندو کے مظالم کا نشانہ بنا ہوا ہے اور ان کی چکی کے اندر پیسا جارہا ہے اور اس کو کوئی انسانی شرف نصیب نہیں ہو سکا۔اس قدر ظالمانہ سلوک ہے یعنی عملاً سلوک کی بات نہیں میں کر رہا۔فلسفیاتی اور نظریاتی تفریق ایسی ہے کہ اس کے نتیجے میں ادنیٰ قو میں جو ہیں وہ کسی انسانی شرف کی مستحق ہی نہیں ہیں۔حال ہی میں وی۔پی سنگھ صاحب کی جو حکومت ٹوٹی ہے اس کے ٹوٹنے کی وجہ حقیقت میں یہی ہے کہ انہوں نے عصبیتوں کے خلاف آواز بلند کی تھی۔انہوں نے انصاف کے حق میں جھنڈا بلند کیا تھا اور باوجود اس کے کہ خود اونچی قوم سے تعلق رکھتے تھے یعنی راجپوت قوم سے تعلق رکھتے تھے انہوں نے چھوٹی قوموں کے حقوق دلانے کے لئے ایک عظیم مہم کا آغا ز کیا اسی طرح مسلمانوں کے مذہبی تقدس کی حفاظت کی۔غرضیکہ یہ جو لڑائی ہندوستان میں اب شروع ہوئی ہے اس کے نام آپ کو مختلف دکھائی دیں گے۔تفریقیں مختلف نہج کی ہوں گی۔لیکن امر واقعہ یہ ہے کہ انصاف کی کمی اور عصبیت کا عروج یہی وہ بنیادی حقیقت ہے جو سارے ہندوستان کے لئے ایک خطرہ بن کر ابھر رہی ہے اور یہ خطرہ دن بدن بڑھتا چلا جا رہا ہے۔برطانیہ جیسا ملک جو بظاہر بیسویں صدی کے ، اب تو اکیسویں صدی شروع ہونے والی ہے۔بیسویں صدی کے آخری کنارے پر دنیا کے ممتاز ترقی یافتہ ممالک میں شمار ہوتا ہے، یہاں آج تک عصبیتیں کام کر رہی ہیں۔اور ان کی سیاست آج بھی عصبیتوں سے آزاد نہیں ہو سکی۔آئر لینڈ میں مذہبی عصبیت سیاست کے ساتھ مل کر اپنے جوہر دکھا رہی ہے۔دوسری قوموں کے اوپر حکومت کرنے کا جو تاریخی عمل ہے وہ باوجود اس کے کہ ہمیں رُکا ہوا دکھائی دیتا ہے مگر واقعہ جاری ہے انگریز کی حکومت دنیا سے سمٹ کر بظاہر اب اپنے علاقے میں آچکی ہے لیکن انگریز کی تجارتی حکومت انگریز کے سیاسی نفوذ کی حکومت آج بھی سب دُنیا میں جگہ جگہ پھیلی پڑی ہے اور یہ عصبیت کہ ہمیں حق ہے کہ ہم دنیا پر راج کریں اور اُن کی اقتصادیات پر بھی حکومت کریں ، ان کے جغرافئے پر بھی حکومت کریں۔ان کے سیاسی جوڑ تو ڑ پر بھی حکومت کریں اور ان کو اپنی خارجہ پالیسی پر آخری اور مکمل اختیار نہ ہو بلکہ عملاً ہم اُن کی خارجہ پالیسی طے کرنے والے ہوں۔خواہ بظاہر دنیا ہمارے اور اُن کے درمیان اس کے اندر کوئی رشتہ نہ دیکھے لیکن اُصولی اور وسیع پیمانے پر جو خارجہ پالیسی بنائی جاتی ہے۔یہ قو میں چھوٹی قوموں کو اس کے تابع دیکھنا چاہتی ہیں اور تب اُن کو پتا لگتا ہے کہ ہماری خارجہ پالیسی آزاد نہیں