خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 680 of 845

خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 680

خطبات طاہر جلد ۹ 680 خطبه جمعه ۱۶ نومبر ۱۹۹۰ء دور شروع ہوا تو دنیا کے سیاستدانوں نے بڑی امید سے مستقبل کی طرف نظریں اٹھا ئیں اور یہ کہنا شروع کیا کہ اب امن کا ایک نیا دور شروع ہو گیا ہے۔حالانکہ یہ محض خوابوں میں اور جاہلانہ خوابوں میں بسنے والی بات ہے۔ان نئے انقلابی حالات کے نتیجے میں کچھ فائدے بھی پہنچے ہیں لیکن کچھ نقصا نات بھی ہوئے ہیں اور ان نقصانات میں سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ مغرب اور مشرق کی نظریاتی تقسیم کے نتیجے میں جو عصبیتیں پہلے سے دبی ہوئی تھیں وہ اب ابھر کر سامنے آگئی ہیں اور دن بدن زیادہ ابھر کر مختلف علاقوں میں کئی قسم کے خطرات پیدا کرنے والی ہیں۔جب بہت بڑے بڑے خطرات درپیش ہوں، جب دنیا دو بڑے حصوں میں منقسم ہو تو بہت سے چھوٹے چھوٹے خطرات اُن خطرات کے سائے میں نظر سے غائب ہو جایا کرتے ہیں یا بعض دفعہ دب جاتے ہیں، ایسا ہی بیماریوں کا حال ہے۔بعض دفعہ ایک بڑی بیماری لاحق ہو جائے تو چھوٹی چھوٹی بیماریاں پھر ایسے انسان کو لاحق نہیں ہوتیں اور جسم کی توجہ اس بڑی بیماری کی طرف ہی رہتی ہے۔پس بنی نوع انسان کے لئے جو خطرات اب اُبھرے ہیں وہ اتنے وسیع ہیں اور اتنے بھیا نک ہیں کہ جب تک ہم ان کا گہرا تجزیہ کر کے ان کے خلاف آج سے ہی جہاد نہ شروع کریں اس وقت تک یہ خیال کر لینا کہ ہم امن کے ایک دور میں ہیں ، امن کے گہوارے میں منتقل ہورہے ہیں یہ درست نہیں ہے بلکہ آنکھیں بند کر کے خطرات کی آگ میں چھلانگ لگانے والی بات ہوگی۔میں چند مثالیں آپ کے سامنے رکھنی چاہتا ہوں۔تاکہ تمام دنیا میں جماعت احمد یہ خصوصیت کے ساتھ ہر ملک میں جہاں بھی جماعت احمد یہ موجود ہے، اس کے دانشوروں تک یہ پیغامات پہنچائیں۔انہیں سمجھانے کی کوشش کریں اور ان پر جہاں تک ممکن ہے اخلاقی دباؤ ڈالیں کہ وہ اپنے ملکوں میں ان خطرات کے خلاف آواز بلند کریں اور اپنی اپنی رائے عامہ کو علمی روشنی عطا کریں اور ان کو بتائیں کہ دنیا کو اس وقت کیا کیا خطرات درپیش ہیں۔آج اگر توجہ نہ کی گئی تو کل بہت دیر ہو جائے گی۔عراق کے جھگڑے میں جو بات کھل کر سامنے آئی وہ یہ نہیں تھی کہ ایک ظلم کے خلاف ساری دنیا متحد ہوگئی ہے۔اس حقیقت کو اس طرح دنیا کے سامنے پیش کیا جارہا ہے کہ دیکھو روس اور امریکہ کی صلح کے نتیجے میں یا ان دو بلا کس کے قریب آنے کے نتیجے میں اب ساری دنیا خطرات کا نوٹس لے رہی ہے اور امن عامہ کو جہاں بھی خطرہ در پیش ہوگا وہاں سب دنیا اکٹھی ہو کر اس خطرے کے مقابلے