خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 63 of 845

خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 63

خطبات طاہر جلد ۹ 63 خطبہ جمعہ ۲۶ جنوری ۱۹۹۰ء میں اسلام لے آئی ہوں اس کے دل میں شدید شرمندگی پیدا ہوئی ہے اور شدید کسر نفسی پیدا ہوئی ہے۔چنانچہ بے اختیار وہ بولی۔رَبِّ إِنِّي ظَلَمْتُ نَفْسِی اے میرے اللہ ! میں نے اپنی جان پر ظلم کیا ہے جو یہ دعوی کر بیٹھی تھی کہ میں مسلمان ہوں۔مجھے تو اسلام کا پتا ہی کچھ نہیں تھا اب پتا لگا ہے کہ جب سلیمان کے دربار میں حاضر ہوئی ہوں اور فوراً عرض کیا أَسْلَمْتُ مَعَ سُلَيْمَنَ اب میں اسلام لائی ہوں جو سلیمان کے ساتھ کا اسلام ہے جس میں شرک کی کوئی ملونی نہیں ہے۔پس جماعت احمدیہ کو ایسا ہی اسلام اختیار کرنا ہے۔ایمان عجائز رکھنے والوں کا اسلام بھی صاف اور شفاف ہے اس میں شرک کی کوئی ملونی نہیں ہوتی دوسرا ایمان اور اسلام ان لوگوں کا ہے جو صاحب عرفان ہوں اور ان کو حضرت سلیمان کی اس تمثیل سے نصیحت حاصل کرنی چاہئے اور خدا والوں کواس طرح دیکھنا چاہئے کہ وہ خدا نہیں بلکہ خدا نما ہے اور ان کا خدا نما ہونا اپنے کو مٹانے کے نتیجے میں ہے نہ کہ ابھارنے کے نتیجے میں، جو اپنے نفس کو عظمت دیا کرتے ہیں وہ کبھی خدا نما نہیں ہو سکتے۔پس ان معنوں میں جماعت احمدیہ کو اسلام قبول کرنا ہے اور اسلام سکھانا ہے۔ان دو باتوں۔کے درمیان بے شمار مراحل ہیں بے شمار مراتب ہیں مجھے افسوس ہے کہ بعض دفعہ جماعتوں میں جو مسائل پیدا ہوتے ہیں تو وہ اسلام کی اسی حقیقت کو نہ سمجھنے کے نتیجے میں پیدا ہوتے ہیں بہت سی جگہ جھگڑے چل پڑتے ہیں امراء کے خلاف باتیں شروع ہو جاتی ہیں ،ٹولیاں بن جاتی ہیں۔مجھے بعض دفعہ باہر سے نمائندے بھیجنے پڑتے ہیں جو تحقیق کر کے صورت حال کو میرے سامنے کھول کر رکھیں۔اگر چہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے ایسے واقعات بہت شاذ ہیں اور ایک سال بھر میں ایک یا دو یا زیادہ سے زیادہ تین دفعہ جہاں تک مجھے یاد ہے مجھے اس قسم کی تحقیق کروانی پڑی ہے اور بعض سالوں میں نہیں بھی کروانی پڑتی لیکن جماعت میں کسی ایک جگہ بھی کسی قسم کا رخنہ نہیں ہونا چاہئے۔جولوگ معرفت نہیں رکھتے ان کو اطاعت اختیار کرنی چاہئے۔ورنہ ان کا جماعت سے کوئی تعلق نہیں ہے جو صاحب عرفان ہیں وہ دانشور نہیں بلکہ وہ دانشور صاحب عرفان ہیں جن کا دل خدا میں اٹکا ہوا ہے جو اللہ تعالیٰ کو دیکھتے ہیں، اللہ تعالیٰ سے پیار کا تعلق رکھتے ہیں۔ایسے لوگ اسلام سے دور نہیں جاتے بلکہ اسلام میں پہلے سے زیادہ بڑھ کر عمل کرنے والے بن جاتے ہیں۔پس ان دانشوروں کے ہاتھوں میں نہ