خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 669
خطبات طاہر جلد ۹ 669 خطبه جمعه ۹ نومبر ۱۹۹۰ء چاہئے کہ لاکھوں ہندوؤں نے بابری مسجد پر حملے کی کوشش کی اور بعض اس میں داخل بھی ہو گئے اور پہلے سے نصب شدہ بُت کی وہاں عبادت بھی کی گئی ، انہوں نے بہت سے مندر جلا ڈالے اور منہدم کر دیئے اور بہت سے ہندوؤں کی املاک لوٹ لیں اور ان کا قتل و غارت کیا۔کیا یہ اسلامی رد عمل ہے؟ یقینا نہیں۔ناممکن ہے کہ اسلامی تعلیم کی رُو سے اس رد عمل کو جائز قرار دیا جائے۔اسلام تمام دنیا کے مذاہب کی عظمت اور ان کی حرمت کی حفاظت کرتا ہے۔عظمت کی حفاظت ان معنوں میں نہیں کہ ان کے سامنے اعتقادی لحاظ سے سر جھکانے کی تعلیم دیتا ہے بلکہ اس لحاظ سے کہ جوان مذاہب کو عظیم سمجھتے ہیں ان کو قانونی تحفظات مہیا کرنے کی تلقین کرتا ہے کہ وہ جس طرح چاہیں، چاہے باطل کو بھی عظیم سمجھیں وہ جس کو عظیم سمجھنا چاہتے ہیں عظیم سمجھتے رہیں۔پس جہاں تک ان کے دلوں کا اور ان کے دلوں کے احترام کا تعلق ہے ان کی حفاظت کرنا دراصل ان مذاہب کی عظمت کی حفاظت کرنا ہے اور حرمت کی حفاظت اس طرح کرتا ہے کہ مسلمان کو یہ اجازت نہیں کہ وہ دوسروں کے عبادت خانوں کو منہدم کرے اور ان کی جگہ خواہ مسجد بنائے یا کچھ اور تعمیر کر دے۔یہ ہندوستان میں جو کچھ ہو رہا ہے یہ دراصل پاکستان میں ہونے والے چند واقعات کا رد عمل ہے۔جس طرح ہندوستان میں ہونے والے واقعات کا ایک رد عمل مشرقی بنگال میں یا یوں کہنا چاہئے کہ بنگلہ دیش میں ظاہر ہوا اور سندھ کے بعض علاقوں میں ظاہر ہوا اسی طرح ظلم کے رد عمل دوسری جگہ ہوتے رہتے ہیں اور ہندوستان میں جو کچھ ہو رہا ہے اس میں یہ حوالہ دیا جا رہا ہے کہ پاکستان میں بھی تو یہی کچھ ہوتا ہے۔پاکستان میں بھی تو انتہاء پرست ملاں مذہب کے نام پر اپنے اقتدار کو غیروں پر قائم کرنے کا دعوی کرتا ہے اس لئے وہ ہند و پارٹی جو دراصل اس سارے فساد کی ذمہ دار ہے اس کے راہنما بار بار یہ حوالے دے چکے ہیں کہ اگر پاکستان کے ملاں کو یہ حق ہے کہ اسلام کے نام پر جن کو وہ غیر مسلم سمجھتا ہے ان کے تمام انسانی حقوق دبالے تو کیوں ہندومت ہمیں اس بات کی اجازت نہیں دے سکتا کہ ہم ہندومت کے نام پر ہندومت کی عظمت کے لئے تمام مسلمانوں کے تمام بنیادی حقوق دبا لیں۔چنانچہ ایک موقع پر گزشتہ الیکشنز میں اس نے یہ اعلان کیا کہ مسلمانوں کو میں یہی نصیحت کرتا ہوں کہ یا ہندوؤں کے اقتدار میں کلیہ ان کے حضور سر تسلیم خم کرتے ہوئے اس ملک میں زندہ رہیں یا اپنا بوریا بستر لپیٹیں اور اس ملک سے رخصت ہو جائیں