خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 668
خطبات طاہر جلد ۹ 668 خطبه جمعه ۹ نومبر ۱۹۹۰ء لیکن زیادہ تر بنیاد اس الزام کی ایک مسلمان درویش کی ایک رؤیا پر ہے جس نے یہ دیکھا تھا کہ بابری مسجد کے نیچے رام کا مردہ دفن ہے اور اس لئے یہاں پہلے ایک مندر ہوا کرتا تھا اور اس کی جگہ اب مسجد بنائی گئی ہے تو یہاں گویا کہ رام مدفون ہو گیا۔کسی کی یہ رویا بھی بہت پرانی ہے۔یہ وہ حوالہ ہے جس کی رو سے ہندوؤں نے اپنے عدالتی کیس کو تقویت پہنچانے کی کوشش کی ہے اور دیگر بھی بہت سی ایسی سندات پیش کرتے ہیں جن کی فی الحقیقت کوئی تاریخی حیثیت نہیں مگر بہر حال یہ تو عدالتی معاملہ ہے، اس میں زیر بحث ہے مگر قطع نظر اس کے کہ یہ دعوی سچ ہو یا جھوٹ ، چارسوسال پہلے کی تاریخ کو اگر اس طرح تبدیل کرنے کی آج کوشش کی جائے تو اس کو صرف اس اصول پر جائز سمجھا جاتا ہے جو مغربی طاقتوں کا اصول ہے کہ اگر غیر مسلم کریں تو جائز ہے، اگر مسلمان کریں تو جائز نہیں ہے۔مسلمانوں کے لئے نہ اس وقت جائز تھا، نہ اب جائز ہے کہ اس عمارت کو اپنے پاس رکھیں اور ہندوؤں کے لئے یہ جائز ہے کہ جب چاہیں پرانی تاریخ کے حوالے سے آج کے قبضوں کی کیفیت بدل دیں اور آج کے جغرافیہ کو تبدیل کر دیں۔پس ہندوستان میں بھی مسلمانوں کے لئے بہت ہی بڑا خطرہ درپیش ہے لیکن یہ خطرہ دراصل ان خطرات سے زیادہ ہے جو جغرافیائی خطرات دیگر جگہوں پر در پیش ہیں۔یہاں اسلام کی عظمت اور اسلام کی توحید کو خطرہ ہے۔خدا تعالیٰ کی عظمت اور خدا کی توحید کو ایک خطرہ درپیش ہے۔وہ جگہ جہاں خدائے واحد کی عبادت کی جاتی تھی وہاں اب بے حقیقت اور ایسے بچوں کی عبادت کی جائے گی جو جن خداؤں سے وابستہ ہیں ان خداؤں کا ہی کوئی وجود نہیں۔پس ایک خدائے واحد کی عبادتگاہ کو جو تو حید کی علمبر دار ہو بت خانوں میں تبدیل کرنا یہ محض ایک چھوٹا سا حادثہ نہیں بلکہ تمام اسلام کی بنیاد پر حملہ ہے اور اس کا جواثر ہے وہ ہندوستان پر بہت دور تک پھیلے گا اور اس کے نتیجے میں مسلمانوں کا امن ظاہری طور پر بھی ہندوستان سے اُٹھ جائے گا اور بہت ہی خوفناک فسادات کا ایک ایسا سلسلہ شروع ہو گا جس کو روکا نہیں۔جاسکے گا۔بہر حال یہ ایک بہت ہی غیر معمولی جذباتی اور اعتقادی اہمیت کا معاملہ ہے جسے عالم اسلام کو سمجھنا چاہئے لیکن اس کے ساتھ ہی جور د عمل اس کے نتیجے میں پیدا ہونا چاہئے وہ اسلامی رد عمل ہونا چاہئے۔مجھے افسوس ہے کہ یہاں بھی ویسی ہی صورتحال ہے جیسا کہ عراق سے تعلق رکھنے والے مسائل کی ہے۔ایک طرف ہم بنگلہ دیش پر نظر ڈالتے ہیں کہ اسے غصے میں کہ بعض ہندوؤں نے یا یوں کہنا