خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 644
خطبات طاہر جلد ۹ 644 خطبه جمعه ۲۶ اکتوبر ۱۹۹۰ء اجازت نہیں دے گی۔پس یہ ان کی مجبوریاں ہیں۔یہ نہیں کہ کسی جاسوس نے یہ باتیں نکالی ہیں۔کھلے عام اب یہ باتیں ہو رہی ہیں وجہ اُس کی یہی ہے کہ رائے عامہ کو ابھارنا ہے اور رائے عامہ کو اکٹھا کرنے کی خاطر یہ قربانی کرنی پڑتی ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ پوری جنگ کی تیاری ہے۔جس کا مطلب یہ ہے کہ جو بھی جنگ اب تھوپی جائے گی اُس میں عالم اسلام خود عالم اسلام کے دور رس مفادات کو ہمیشہ کے لئے تباہ و برباد کرنے کے لئے پوری مستعدی سے ان کا ساتھ دے رہا ہوگا۔اس سے زیادہ بھیانک تصور انسان کے دماغ میں اسلام کے تعلق میں نہیں اُبھر سکتا کہ دنیا کی اکثر مسلمان قو میں جن میں پاکستان بھی شامل ہے مغربی دنیا کا اس بات میں بھر پور ہاتھ بٹائیں اور ان کے افعال کی پوری ذمہ داری قبول کریں ، ایک اُبھرتی ہوئی اسلامی طاقت کو اس طرح صفحہ ہستی سے مٹا دیا جائے کہ اُس کا نام و نشان مٹ جائے۔ہمارے پاس تو سوائے دُعا کے اور کوئی ہتھیار نہیں ہے اور میں پہلے ہی جماعت کو متوجہ کر چکا ہوں۔میں بھی دعا کرتا ہوں ہمیشہ آپ بھی یقین ہے کہ دعاؤں میں اس بات کو یادر کھتے ہوں گے۔یہ خطرہ سارے عالم اسلام کے لئے خطرہ ہے اور کوئی معمولی خطرہ نہیں۔اس کے عقب میں بہت سے اور خطرات آنے والے ہیں۔ان باتوں کے رد عمل پھر اور بھی پیدا ہوں گے اور اُس کے نتیجے میں قومیاتی تصورات پھر اور بھی زیادہ اُبھریں گے، نسلی تصورات اور بھی زیادہ اُبھریں گے اور اگلا جو دنیا کا نقشہ ہے وہ اُلٹنے پلٹنے والے دور سے گزرنے والا ہے۔نئے نقشے بننے میں تو ابھی دیر ہے۔اس دور میں اگر ہم مستعد ہو جائیں اور دعاؤں کے ذریعے اور اپنی ذہنی اور قلبی صلاحیتوں کے ذریعے ان تمام خدشات کا مقابلہ کرنے کے لئے اور اسلام کے دشمنوں کے سامنے سینہ سپر ہونے کے لئے تیار ہو جائیں۔پورے اخلاص کے ساتھ عہد کریں کہ ہم ہرگز اسلام کی بقا کے لئے کسی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے تو پھر میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ ہماری دعائیں اور ہماری پُر خلوص کوششیں یقیناً دنیا کے حالات پر اچھے رنگ میں اثر انداز ہوں گی اور ہم انشاء اللہ تعالیٰ اسلام کے خلاف سازشوں کو کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔اللہ تعالیٰ ہمیں اس کی توفیق عطا فرمائے۔آمین۔