خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 643
خطبات طاہر جلد ۹ 643 خطبه جمعه ۲۶/اکتوبر ۱۹۹۰ء آپ نے ایک شاخسانہ سُنا ہو گا کہ کہہ رہے ہیں کہ صرف کیمیاوی جنگ کی صلاحیت نہیں ہے صدام حسین کو بلکہ بائیولاجیکل وار فیئر Biological Warfare کی صلاحیت بھی ان کے اندر موجود ہے اور انہوں نے ایسے جراثیم پہ قدرت پالی ہے، ایسے جراثیم کو محفوظ طریقے پر بڑھا کر بموں کی شکل میں دوسرے علاقوں میں منتقل کرنے کے ذرائع اُن کو مہیا ہو چکے ہیں اور ٹیکنالوجی حاصل ہو چکی ہے جس کے نتیجے میں بہت ہی خطرناک جراثیم غیر قوموں میں پھیلائے جاسکتے ہیں اور اُس کے لئے پیش بندی کرنا بہت مشکل کام ہے۔مثلاً اینتھر کس ہے ایک ایسا جرثومہ ہے جس کے نتیجے میں جلد پر خوفناک قسم کے پھوڑے بھی نکلتے ہیں ، خون میں Poisining ہو جاتی ہے اور بہت ہی درناک حالت میں موت واقع ہوتی ہے۔ایتھر کس کو جنگی ہتھیاروں کے طور پر استعمال کرنے کی ایجا داگر چہ مغرب ہی کی ہے لیکن کہا جاتا ہے کہ یہ ٹیکنالوجی عراق کو بھی حاصل ہو چکی ہے۔اسی طرح ٹائیفائیڈ ہے کالرا ہے اسی قسم کے اور بہت سی مرضیں ہیں جن سے خود حفاظتی کے لئے اگر چہ ٹیکے ایجاد ہو چکے ہیں لیکن مغربی مفکرین یہ پروپیگنڈا کر رہے ہیں کہ عراق ان کو آپس میں ملا کر ایسی خوفناک پوشنز (Potions) یا ملی جلی جس طرح کہ ادویات ہوتی ہیں اُن کا ایک مرکب کہہ لیں ،معجون کہہ لیں یعنی مختلف جراثیم کے مرکبات اور معونہیں بنا کر انکو یہ دنیا میں پھیلا دیں گے اور یہ ناممکن ہے کہ ہر ایک کے لئے خود حفاظتی کی اور دفاعی کارروائی کی جاسکے۔اب جہاں تک میر اعلم ہے ابھی تک چند دن سے پہلے یہ باتیں دنیا کے سامنے نہیں لائی گئی تھیں نہ کبھی عراق کی طرف سے ایسی دھمکی دی گئی تھی۔عراق نے جب بھی دھمکی دی ہے کیمیاوی جنگ کی دھمکی دی ہے لیکن یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ دنیا کی رائے عامہ پر مکمل طور پر قبضہ کرنے کی خاطر یہ باتیں بھی داخل کر رہے ہیں اللہ بہتر جانتا ہے سچ ہے یا جھوٹ ہے لیکن مقصد یہ ہے کہ اگر ہم عراق کو کلیہ تباہ و برباد کریں اور کچھ بھی وہاں باقی نہ چھوڑیں تو دنیا کی رائے عامہ مطمئن ہو جائے کہ اصل وجہ کیا تھی اور یورپ اور مغرب میں جب یہ باتیں بیان کرتے ہیں کہ ہمارا معاہدہ ہو چکا ہے اس بات پر اور اُس بات پر تو یہ وجہ نہیں ہے کہ اپنے راز خود اُگل رہے ہیں بلکہ پراپیگنڈے کے ہتھیار کے طور پر یہ باتیں بتانے پر مجبور ہیں ورنہ مغربی رائے عامہ اتنا اقتصادی رجحان رکھتی ہے کہ اگر یہاں یہ بات ذہن نشین ہو جائے کہ اس جنگ کے نتیجے میں شدید اقتصادی نقصانات ہمیں پہنچیں گے تو مغربی رائے عامہ یقیناً اپنے سیاستدانوں کو اس جنگ کی