خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 59
خطبات طاہر جلد ۹ 59 خطبہ جمعہ ۲۶ جنوری ۱۹۹۰ء پس ایمان کی کیفیت بھی بعض لوگوں میں بہتے پانیوں کی سی ہے اور وہ بہتا پانی زیادہ ترقی اختیار کرتا چلا جاتا ہے اور یہ ترقی اس کو عرفان کے ذریعے نصیب ہوتی ہے۔جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے یہ صفت اپنے درجہ کمال میں حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ کو نصیب ہوئی کہ آپ نے علم اور کتاب پر اکتفا نہیں کیا بلکہ بہت گہرا عرفان بھی بخشا اور کتاب اور علم کی حکمتیں بھی لوگوں کو سکھائیں مگر ہر نبی ایسا ہی کرتا ہے اپنے اپنے مراتب کے مطابق اپنی اپنی توفیق کے مطابق یہ انبیاء کا کام ہے۔چنانچہ حضرت سیلمان کے متعلق جو صاحب حکمت مشہور تھے قرآن کریم نے ان کے ساتھ ملکہ سبا، جس کا نام بلقیس بیان کیا جاتا ہے اس کی ملاقات کا جو واقعہ بیان فرمایا اس میں سے یہ تین آیات میں نے آج کے خطبے کے لئے چنی تھیں۔فَلَمَّا جَاءَتْ قِيلَ أَهْكَذَا عَرْشُكِ جب وہ حضرت سلیمان کی خدمت میں حاضر ہوئی تو حضرت سلیمان نے اس کے تخت جیسا ایک تخت اس کو دکھایا اور اس سے پوچھا کہ کیا تیرا تخت ایسا ہی ہے۔قَالَتْ كَأَنَّهُ هُوَ بعینہ وہی گویا بالکل وہی ہے کوئی فرق مجھے دکھائی نہیں دیتا۔وَاُوتِيْنَا الْعِلْمَ مِنْ قَبْلِهَا وَكُنَّا مُسْلِمِینَ ہمیں اس سے پہلے علم عطا کر دیا گیا ہے۔یعنی میں جو آپ کے پاس حاضر ہوئی ہوں تو علم پانے کے بعد حاضر ہوئی ہوں، کہ كُنَّا مُسْلِمِينَ اور میں اور میری قوم اسلام اختیا کر چکے ہیں۔اب دیکھئے کسی علم کی بناء پر ملکہ سبا نے اسلام اختیار کیا اور حضرت سلیمان کی خدمت میں اپنے اس اسلام کا اظہار کیا لیکن حضرت سلیمان جانتے تھے کہ یہ اسلام ایک ابتدائی کیفیت کا نام ہے۔یہ پورے معنوں میں اسلام کا مضمون سمجھتی نہیں۔یہ سمجھتی ہے کہ ظاہری اطاعت اختیار کر لینا ہی اسلام ہے۔پس جسے وہ علم قرار دے رہی ہے جسے وہ اسلام قرار دے رہی ہے یہ اس کے لئے کافی نہیں۔چنانچہ باوجود اس کے کہ اس نے کہا ہم اسلام قبول کر چکے ہیں آپ نے اس کو اسلام سکھانا شروع کر دیا۔قرآن کریم فرماتا ہے وَصَدَّهَا مَا كَانَتْ تَعْبُدُ مِنْ دُونِ اللَّهِ آپ نے اس کو اس چیز سے روکا جس کی وہ پہلے عبادت کیا کرتی تھی اگر پہلے عبادت کیا کرتی تھی اور اس سے رک گئی تھی تو دوبارہ کیوں روکا؟ مراد یہ ہے کہ آپ جانتے تھے کہ حکمتیں سمجھانا ضروری ہے اس کو بتانا ضروری ہے کہ کیوں غیر اللہ کی عبادت ایک جاہلانہ حرکت ہے ایک ہلاک کرنے والا فعل ہے۔اس