خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 634
خطبات طاہر جلد ۹ 634 خطبه جمعه ۲۶ اکتوبر ۱۹۹۰ء نہیں کہ میں اس کی تفصیل بیان کروں اور صحیح صورتحال آپ کے سامنے رکھوں کہ دوقومی نظریہ کس حد تک قابل عمل تھا کس حد تک نہیں اور حقیقت سے اُس کا کیا تعلق ہے؟ اور جو غیر معمولی جدوجہد مسلمانانِ ہند نے پاکستان کے قیام کے لئے کی اُس کی دراصل کیا وجہ تھی اور اس کے محرکات حقیقی معنوں میں کیا تھے؟ کیا اقبال کے نظریوں کو پڑھنے کے بعد اُنہوں نے ایسا کیا تھا؟ اور اُس سے متأثر ہو کر ایسا کیا یا بالکل مختلف وجوہات تھیں؟ بہر حال یہ مضمون الگ ہے مگر میں یہ آپ کو بتانا چاہتا ہوں کہ روس میں جب اشتراکیت کا نظریہ شکست کھا گیا جو مرکزی حیثیت رکھتا تھا اور اُس کے گردساری قوموں کی چکی گھوم رہی تھی اور اُس کا جو محور تھا اُس پر یہ نظریہ بڑی قوت سے ان قوموں کو اپنے اردگرد باندھے ہوئے تھا وہ جب محور نکل گیا تو لازماً انہوں نے بکھرنا ہے اور کوئی دنیا کی طاقت اس کو روک نہیں سکتی ماسوائے اس کے کہ کچھ عرصے کے بعد بیرونی دباؤ کے نتیجے میں ایسے رد عمل ظاہر ہوں کہ یہ قو میں ایک دوسرے کے ساتھ اپنا مفاد وابستہ سمجھیں لیکن مفاد وابستہ ہونے کا جو نظریہ ہے جس نے شمالی امریکہ کو اکٹھا کیا یہ نظریہ روس میں اس وقت قابل عمل نہیں کیونکہ اگر چہ اشترا کی تصور کے نتیجے میں روسی قوموں کو اکٹھا کیا گیا لیکن درحقیقت یورپ کی قوموں کے سوا باقی قوموں سے نا انصافی کی گئی یعنی یورپین بھی مختلف قوموں میں وہاں موجود ہیں۔جہاں تک روس کے اقتصادی نظام کا تعلق ہے اور یا آپس میں قوموں کے تعلقات کا معاملہ ہے حقیقت یہ ہے کہ مسلمان قومیں اور بعض دیگر پسماندہ قومیں اس طرح برابری کی سطح پر روس میں حصہ دار نہیں رہیں اور اقتصادی مفادات کے لحاظ سے اور صنعتی ترقی کے لحاظ سے اُن کو پس پشت ڈالا گیا۔پس بجائے اس کے کہ وہ با ہمی قومی مفاد کے نظریے کے تابع کسی وجہ سے اکٹھا ر ہنے کی کوشش کریں معاملہ اس کے برعکس صورت اختیار کر گیا ہے اور یہ قو میں نہ صرف یہ کہ روسی اشترا کی نظریہ کے ٹوٹنے کی وجہ سے لازماً طبعا بکھرنے کے لئے تیار ہیں بلکہ ماضی کے مظالم کی ، ماضی کی نا انصافیوں کی یادیں ان کو اس بات پر انگیخت کر رہی ہیں۔جہاں تک اسلام کا تعلق ہے اسلام بحیثیت ایک مذہب یہاں سر دست کوئی اثر ظاہر نہیں کر سکتا کیونکہ ان قوموں کی بھاری اکثریت عملاً لا مذہب ہو چکی ہے اگر چہ مسلمان بھی کہلاتی ہو۔ان کے نوجوانوں میں ہی نہیں بلکہ علماء میں بھی خدا کا حقیقی تصور نہیں ہے بلکہ ایک موہوم سا تصور ہے اور خدا کے نام پر عبادت کرنا قربانی کرنا ، اپنے آپ کو تبدیل کرنا یہ تو ایک لمبی محنت کو چاہتا ہے دوبارہ اسلام