خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 58 of 845

خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 58

خطبات طاہر جلد ۹ 58 خطبہ جمعہ ۲۶ جنوری ۱۹۹۰ء ہوا اور اسی قسم کا اسلام بھی ان کو عطا ہوا جس کے نتیجے میں ان کے اعمال سنوارے گئے۔لیکن ایک بہت بڑا طبقہ ایسا بھی تھا جس کو آپ نے حکمتیں بھی عطا کیں اور صاحب عرفان بھی بنادیا۔اس پہلو سے تمام انبیاء صرف کتاب سکھانے پر انحصار نہیں فرماتے بلکہ علم کے بعد عرفان بھی عطا کرتے ہیں، کتاب کے بعد حکمتیں بھی سمجھاتے ہیں تا کہ ہر طبقہ جوان پر ایمان لاتا ہے وہ اپنی اپنی توفیق اور اپنی اپنی حیثیت کے مطابق فیض پاسکے۔کوئی دانشور یہ نہیں کہہ سکتا کہ یہ نبی تو اندھوں اور جاہلوں کا نبی تھا۔اس نے محض کتاب سکھا دی اور ہمارے جیسے روشن دماغوں کے لئے سیرابی کا کوئی انتظام نہیں کیا۔ان کے دماغ اس درجہ سیراب کئے جاتے ہیں کہ اس سے زیادہ ان کو پانی اپنے اندر سمونے کی توفیق نہیں رہتی اور نبی کا علم اور نبی کا عرفان ان پر پھر بھی حاوی رہتا ہے۔یہ وہ مضمون ہے جو آپ کو حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی کتب میں بالتفصیل ملے گا۔پس جہاں آپ نے اندھے ایمان پر زور دیا ہے اس کا یہ مفہوم ہے ان معنوں میں آپ زور دیتے ہیں بعض طبقے ایسے ہیں جن کے لئے سوالوں کی گنجائش نہیں ہوتی ، سوالوں کی ان کو ذہنی طور پر استطاعت نہیں ہوتی۔اس لئے بہتر یہی ہے کہ ان کا ایمان پختہ چٹانوں پر نصب ہو جو بظاہر منجمد نظر آئیں ، حرکت نہ کر سکیں لیکن مستحکم ضرور ہوں۔کچھ طبقات ایسے ہیں جاری وساری ایمان والے لوگ ہیں ان کا ایمان بہتے پانیوں کی طرح مختلف رستوں سے گزرتا ہے مختلف کیفیتوں میں سے گزرتا ہے، مختلف مناظر دیکھتا ہے اور اس کے نتیجے میں ان پانیوں میں ان تمام مناظر کی عکاسی ہوتی چلی جاتی ہے۔کچھ نہ کچھ وہ ایک منظر سے لیتے ہیں، کچھ نہ کچھ دوسرے منظر سے لیتے ہیں، کچھ ایک زمین سے نمک اٹھاتے ہیں کچھ دوسری زمین سے نمک اٹھاتے ہیں۔غرضیکہ وہ پانی زیادہ گہرا اور خدا تعالیٰ کے پیدا کردہ جتنے بھی مادیات ہیں ان سے زیادہ وہ Rich ہوتا چلا جاتا ہے (Rich کا چونکہ اردو لفظ ذہن میں نہیں آ رہا تھا اس لئے میں اٹکا۔) یہاں امیر کا لفظ اطلاق نہیں پاتا یوں کہنا چاہئے کہ خدا تعالیٰ کی پیدا کردہ جتنی بھی نعمتیں زمین میں موجود ہیں جتنے بھی مادے زمین میں موجود ہیں ان سے وہ زیادہ متمتع ہوتا چلا جاتا ہے۔زیادہ استفادہ کرتا چلا جاتا ہے۔یہاں تک کہ وہ پانی جو پہاڑ کی چوٹی سے چلتا ہے جب وہ سمندر میں گرنے کے قریب ہوتا ہے وہ پہلے پانی کی نسبت بہت زیادہ فائدہ دینے کی قوت رکھتا ہے اور وہ پانی جس زمین پر پھر جاتا ہے اس زمین کو زرخیز بنا دیتا ہے۔