خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 602 of 845

خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 602

خطبات طاہر جلد ۹ 602 خطبه جمعه ۱۲ را کتوبر ۱۹۹۰ء کا احساس ہے جوان کے ساتھ لگارہتا ہے جوان کی جا کو کر ید تار ہتا ہے اور بھی بھی وہ تسکین قلب و جاں پا نہیں سکتے۔اس کے بعد پھر ان ظلمات کا ذکر فرمایا جن کی خاطر میں نے ان آیات کی تلاوت کی یعنی وہ بیان کرنا مقصور تھیں۔فرمایا: فِي بَحْرِلُعِى يَغْشَهُ مَوْجٌ مِنْ فَوْقِهِ مَوْجٌ سراب کی زندگی سے مراد خالص دنیا داری کی زندگی ہے اور قرآن کریم کے محاورے سے پتا چلتا ہے کہ ظَهَرَ الْفَسَادُ فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ (الروم:۴۲) یعنی خشکی میں بھی فساد ہو گیا اور بحر میں بھی فساد ہو گیا۔خشکی کا فسادان دنیا داروں کا فساد ہے جو مذہب سے بے تعلق ہوتے ہیں اور تری کا فساد وہ فساد جو مذاہب میں برپا ہو جاتا ہے مذاہب میں پیدا ہوتا ہے اور ان کو گندا کر دیتا ہے اور روشنیوں کو اندھیرے میں بدل دیتا ہے۔یہ وہ مذاہب ہیں جو کبھی خدا کی طرف سے تھے لیکن بعد میں بندوں نے اپنا تعلق خدا کے نور سے کاٹ لیا اور پھر دن بدن ان مذاہب کے اندھیرے بڑھتے چلے جاتے ہیں اور ان کے نتیجے میں بظاہر مذہبی لوگ ہیں لیکن ان کی ساری زندگی اندھیروں میں صرف ہوتی ہے۔پس اچانک سراب سے سمندر کی طرف منتقل ہونا اور بظاہر مضمون بدل دینا یہ عجیب قرآن کریم کی شان ہے لیکن ذرا گہری نظر سے آپ دیکھیں تو درحقیقت ایک ہی مضمون کے دو پہلو ہیں اور ان دونوں مضامین کا قرآن کریم کی ایک اور آیت سے تعلق ہے جیسا کہ میں نے آپ کو پڑھ کر سنایا ہے ظَهَرَ الْفَسَادُ فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ پہلا فساد بر کا تھا جو پہلی آیت میں کھول کر بیان فرمایا گیا اور دوسرا فساد ”بحر کا فساد ہے جس کی تفصیل بیان فرمائی گئی ہے تو ایسی صورت میں اندھیروں کی کئی شکلیں ہیں آخری شکل وہی ہے جیسے ماں کے پیٹ میں جنین کی جو Plasenta میں لپٹا ہوا ہوتا ہے۔ایسا مذ ہبی انسان جو کلیۂ اندھا ہو بظاہر مذہب سے تعلق ہو لیکن سوائے نفسانیت کے اس میں کچھ بھی نہ ہو، مذہب اس کے لئے فیض پہنچانے کا ذریعہ تو ہو۔مذہب اس کو اس بات پر آمادہ نہ کر سکے کہ دوسروں کو فیض پہنچا سکے گویا خدا اور اس کی ساری کائنات سب کچھ اس کی خاطر قائم ہیں۔جب تک ان باتوں کا فیض اس تک پہنچتا ہے اس کا تعلق قائم ہے جب فیض بند ہو گیا تو وہ اپنا تعلق تو ڑلے گا اور اس کے سوا اس کو کوئی نور بصیرت حاصل نہیں، کوئی سماعت کی طاقت حاصل نہیں۔ایسے لوگوں کا ذکر قرآن کریم نے اور بھی کئی جگہ فرمایا کہ وہ خدا تعالیٰ سے ایسا تعلق رکھتے ہیں کہ جب تک