خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 598 of 845

خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 598

خطبات طاہر جلد ۹ 598 خطبه جمعه ۱۲/اکتوبر ۱۹۹۰ء پڑے ہیں اور تین ادوار میں بٹے ہوئے ہیں۔ان پر غور کرو گے تو اس سے تمہیں بہت سی روشنی نصیب ہوگی اور تمہیں یہ علم ہو جائے گا کہ جب تک خدا کی طرف سے انسان پر آسمان سے نور نازل نہیں ہوا اس سے پہلے کی تمام زندگی کلیۂ بے معنی اور بے حقیقت اور اندھیروں میں بسر ہونے والی زندگی تھی۔اس کا دوسرا معنی ظاہری طور پر یہ ہے کہ ماں کا ایک جسم ہے جس نے رحم کو گھیرا ہوا ہے اور ماں کا رحم خود ایک پردہ ہے لیکن اس جسم کی دبیز تہہ کے اندر چھپا ہوا ہے اور باہر کی دنیا سے رحم کا تعلق کاٹ دیتا ہے پھر رحم خود ایک پردہ ہے جو اس Plasenta اور جسم کے درمیان حائل ہے جس کے اندر بچہ بنتا ہے۔Placenta اس تھیلی کو کہا جاتا ہے جس کے اندر بچے کی پرورش ہوتی ہے وہ براه راست رحم میں پرورش نہیں پاتا بلکہ اس کا ایک حصہ رحم سے پیوستہ ہو کر رحم کی وساطت سے ماں سے فیض پا رہا ہوتا ہے اور پھر تیسر ا پر وہ اس Placenta کا ہےاس Plasenta کے اندر بچہ بہت سے بداثرات سے محفوظ رہتا ہے جو رحم سے براہ راست اس کو پہنچ سکتے تھے اور یہ ایک بہت ہی دلچسپ نیا مضمون ہے جس پر سائنس آج کل بہت تحقیق کر رہی ہے کہ کس طرح خدا تعالیٰ نے بچے کو خود اس کی ماں کے جسم اور رحم سے محفوظ رکھا ہوا ہے اور کیوں Plasenta میں لپیٹا ہوا ہے لیکن جہاں تک پردے کا تعلق ہے یہ بہر حال پردہ ہے۔ان تین پردوں کے اندر بچے کی زندگی تمام نوروں سے براہ راست تعلق نہیں رکھتی بلکہ بالواسطہ تعلق رکھتی ہے اور کئی رہتی ہے۔رحم کے اندر Placenta کے اندر جو بچہ ہے وہ صُمٌّ بُكْم عُنى (البقرہ: 19) کی کیفیت رکھتا ہے نہ وہ براہ راست سن سکتا ہے نہ بول سکتا ہے نہ دیکھ سکتا ہے اور کلیڈ تین اندھیروں میں لپٹا ہوا پڑا ہے۔ماں جو فیض اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا دنیا سے پاتی ہے وہ فیض رحم میں منتقل ہوتا ہے۔رحم جو فیض Plasenta کو بخشتا ہے اس سے بچہ فیض پاتا ہے اور ہر طرف سے وہ لینے والا ہے عطا کرنے والا نہیں یعنی یہ وہ زندگی ہے کہ جو چیز تین اندھیروں میں لپٹی ہوئی ہے اس کی آخری شکل یہ بنتی ہے کہ وہ ہر طرف سے فیض پارہی ہے اور فیض دے نہیں سکتی اور براہ راست کچھ بھی کرنے کی اہلیت نہیں رکھتی۔نہ سن سکتی ہے نہ دیکھ سکتی ہے جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے صُمٌّ بُكْم عُنی کی سی کیفیت ہے۔پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہم ایسی صورت میں اس میں اپنی روح پھونکتے ہیں اور جب روح پھونکتے ہیں تو وہ سمیعًا بَصِيرًا (الدھر:۳) بن جاتا ہے۔