خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 592
خطبات طاہر جلد ۹ 592 خطبه جمعه ۵ اکتوبر ۱۹۹۰ء نہیں کرتا۔آپ جھوٹے کو جھوٹا کہہ دیں وہ ایسے غصے سے آپ کو جواب دے گا کہ تم جھوٹے ہوگے، تمہارے ماں باپ جھوٹے میں تو بالکل جھوٹ نہیں بولتا یا تم ہوتے کون ہو مجھے جھوٹا کہنے والے اور کبھی وہ یہ نہیں سوچتا کہ اس کی ساری زندگی جھوٹ میں صرف ہوتی ہے۔پس بہت سے ایسے گناہ ہیں جو خدا کی نظر تو در کنار خود اپنی نظر سے اوجھل ہو جاتے ہیں۔اس حالت کا نام ہے ظلمات کے اوپر ظلمات یعنی ایک ظلمت نہیں ہے بلکہ کئی قسم کی ظلمتوں کے اندر انسان گھرا ہوا ہے۔پس صرف ایک ظلمت یعنی پہلی ظلمت جو ہے وہ اتنی خطرناک نہیں مگر جب ظلمت کے اندر ظلمت پیدا ہونی شروع ہو جائے تو رفتہ رفتہ انسان کو اس بات کا شعور ہی نہیں رہتا کہ میں کیا کر رہا ہوں کیوں کر رہا ہوں۔اس کی نظر سے تمام حقیقتیں اوجھل ہو جاتی ہیں۔ایسے انسان کے متعلق قرآن کریم فرماتا ہے کہ وہ ایک چوپائے کی طرح زندگی بسر کرتا ہے جو اوندھے منہ چلنے والا ہو۔اس کا کوئی مرشد نہ ہو کوئی اس کو ہدایت نہ دے سکتا ہو۔پس بنیادی عقیدہ وہی ہے یعنی خدا سے مرنے کے بعد لقاء کا عقیدہ۔اس کے آپ جتنے قریب جائیں گے اتنا آپ کو روشنی نصیب ہوگی جتنا باشعور طور پر اس عقیدے کو چمٹیں گے اور اس کی پناہ میں آئیں گے اتنا ہی آپ ظلمات سے روشنیوں کی طرف سفر کرنے والے ہوں گے۔جتنا اس عقیدے سے غفلت کی حالت میں یا باشعور طور پر پیچھے ہٹیں گے اتنا ہی گناہوں میں مبتلا ہوتے چلے جائیں گے۔یہاں تک کہ اپنی حالت سے کلیہ بے خبر ہو جائیں گے پس ”نسی کا مضمون یعنی بھلا دینے کا مضمون دراصل ان سب باتوں کو بھلا دینا ہے۔جب خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ تم نے لقاء یوم آخر کو بھلا دیا اس لئے یہ سزا دیتا ہوں تو یہ کوئی ایسا ظالمانہ فیصلہ نہیں ہے۔جیسا کہ میں نے مثال دی کہ دنیا کے بادشاہ کسی کو جیل میں ڈال کے بھلا دیتے ہیں بلکہ اس کا بہت گہرا انسانی نفسیات سے تعلق ہے۔انسان جب لقاء کے مضمون کو بھلاتا ہے تو رفتہ رفتہ اپنے آپ سے بھی غافل ہوتا چلا جاتا ہے اور جو اپنے آپ کو بھلا دے وہ کسی اور سے کیسے شکوہ کر سکتا ہے کہ مجھے تم نے بھلا دیا۔پس اللہ تعالیٰ سے یہ دعا کرتے رہنا چاہئے کہ وہ ہمیں اپنی لقاء کی حقیقی معرفت عطا کرے اور ہم موت کو یادرکھنے والے ہوں بھلانے والے نہ ہوں۔موت دنیا کی سب سے زیادہ یقینی حقیقت ہے لیکن سب سے زیادہ بھلا دی جاتی ہے۔کتنے لوگ ہیں جو ہم سے پہلے گزر گئے اور پھر کبھی خوابوں کے سوا ان کی صورت نہیں