خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 528 of 845

خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 528

خطبات طاہر جلد ۹ 528 خطبہ جمعہ ۷ استمبر ۱۹۹۰ء ناراضگی کا کھلا کھلا اظہار کرنا چاہئے تا کہ بچے کو محسوس ہو کہ اس کی اس حرکت سے والدین کو سخت تکلیف پہنچی ہے اور اس نے اُن سے حاصل ہونے والا پیار کھو دیا ہے۔ کئی طریق ہیں جن کے ذریعے بچے کو بڑی سختی کے ساتھ پیغام پہنچایا جا سکتا ہے۔ دوسرے یہ کہ اس ماحول میں پلنے والے بہت سے بچے ایسے ہوں گے جو اپنے والدین یا بہن بھائیوں سے زیادہ سچ بولنے والے ہوں گے کیونکہ میں نے یہ بھی جائزہ لے کر دیکھا ہے کہ انگلستان میں بھی اور یہاں بھی جو بچے شروع میں یہاں آگئے اور یہاں کے ماحول میں پلے بڑھے ہیں ، ان میں خدا تعالیٰ کے فضل کے ساتھ سچ بولنے کا رجحان اپنی بڑی نسلوں سے زیادہ پایا جاتا ہے۔ اس لئے میں بچوں کو بھی نگران بناتا ہوں کہ وہ اپنے والدین اور بڑوں بزرگوں کے نگران بنیں اور جب اُن سے کوئی ایسی بیہودہ حرکت سرزد ہوتی دیکھیں جس اسے پتہ لگے کہ وہ جھوٹ کی طرف مائل ہیں یا کھلم کھلا جھوٹ بولتے ہیں تو بچوں کو ان کو سمجھانا چاہئے۔ یہ خیال دل سے نکال دیں کہ بچے اگر بڑوں کو سمجھائیں تو یہ بے ادبی ہو گی کیونکہ قرآن کریم سے ثابت ہے کہ نہ صرف حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنے بزرگوں کو سمجھایا اور دو ٹوک باتیں کر کے سمجھایا بلکہ ہر نبی اپنے وقت کے بزرگوں کو سمجھاتا رہا۔ بچپن سے ہی وہ یہ اسلوب رکھتا ہے کہ وہ بڑوں کو بھی سمجھاتا ہے، چھوٹوں کو بھی سمجھاتا ہے۔ سمجھانے کے معاملے میں عمر کا تفاوت کوئی حیثیت نہیں رکھتا ۔ پس بعض دفعہ تو بچے کا سمجھانا زیادہ طور پر اثر انداز ہوتا ہے اس لئے آپ کے ہاں ہماری جماعت میں جتنے بچے ہیں اُن کو بھی اس جہاد کا علم اپنے ہاتھوں میں تھام لینا چاہئے اور اپنے گھر میں اپنے بڑوں کو جب وہ جھوٹ بولتا دیکھیں تو اُن کو ٹوکیں ، انکو کہیں کہ یہ بہت بڑی بات ہے، اسلام کے خلاف ہے، قرآن کی تعلیم کے خلاف ہے ، انبیاء کی سنت کے خلاف ہے، ایک قسم کی قومی خود کشی ہے، تم جھوٹ بول کر نہ خدا کے رہو گے نہ دنیا کے رہو گے ۔ ایسی سادہ باتیں کہہ کر اگر بچہ بھی اپنے والدین یا بڑوں کو جھوٹ سے پاک رہنے کی ہدایت کرتا ہے تو اس کا بعض دفعہ بہت زیادہ گہرا اثر پڑتا ہے بلکہ بچے کی بات بعض دفعہ بڑے سے بھی زیادہ دل کو کاٹتی ہے اور شرمندہ کرتی ہے۔ پس ساری کی ساری جماعت کو جھوٹ کے خلاف علم جہاد بلند کرنا چاہئے کیونکہ جماعت احمد یہ کی بقاء کے لئے سچ پر قائم ہونا ضروری ہے۔ دنیا میں توحید کے قیام کے لئے سچ کا علم بلند کرنا