خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 525 of 845

خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 525

خطبات طاہر جلد ۹ 525 خطبہ جمعہ ۷ ستمبر ۱۹۹۰ء حرام بات نہیں ہے اس لئے کرنے میں حرج نہیں وہاں خطرہ ضرور پیش آتا ہے کیونکہ انسانی فطرت بھیڑوں کی طرح ہر جگہ منہ مارنے کی عادی ہوتی ہے اور جس طرح بھیڑوں کو عقل نہیں ہوتی کہ کہاں منہ مارنا ہے اسی طرح انسان جرموں کے ارتکاب میں بھیڑوں کا سا مرتبہ رکھتا ہے اور رفتہ رفتہ عام گھاس کے میدان سے ہٹ کر ہری بھری وہ گھاس نظر آئے جو بادشاہ کی رکھ میں خاص طور پر پائی جاتی ہے تو دل میں حرص پیدا ہو جاتی ہے، لالچ پیدا ہو جاتی ہے اور پھر وہاں منہ مارنے سے انسان اپنے آپ کو روک نہیں سکتا ، اسی طرح گپوں کا حال ہے۔یہ کہتیں بھی درحقیقت No Man's Land ہیں جو پھر بالآ خر جھوٹ میں داخل ہو جاتی ہیں اور گپ کی وجہ سے جھوٹ کی شرم اٹھتی چلی جاتی ہے اس لئے گپ شپ کی مجالس میں بھی اگر آپ احتیاط نہیں کریں گے اور بار بار اپنے آپ کو غلط بیانی سے اور مبالغہ آمیزی سے روکیں گے نہیں تو لازم ہے کہ آپ چلتے چلتے پھر جھوٹ میں بھی داخل ہو جائیں گے اور اس طرح ایسی ابتدائی صورت میں جھوٹ بڑھنا شروع ہو جاتا ہے۔ایک دوسری عادت جو ہمارے ملکوں میں ہے وہ غیر ذمہ داری کی بات کرنا ہے۔اُس کے نتیجہ میں بھی انسان بالآ خر جھوٹ بولنے کا عادی ہو جاتا ہے یا بعض دفعہ شرم محسوس کر کے مجبوراً اپنے آپ کو ایک قابل شرم بات سے بچانے کے لئے جھوٹ کی پناہ لینے پر مجبور ہو جاتا ہے اور ایک جھوٹ سے پھر دوسرا جھوٹ ، دوسرے جھوٹ سے تیسرا جھوٹ شروع ہو جاتا ہے۔غیر ذمہ داری کی مثال یہ ہے کہ آپ نے کسی سے پوچھا فلاں بات ہوگئی ہے؟ تو اُس نے جھوٹ نہیں بولا اندازہ لگایا کہ ہوگئی ہے اور کہہ دیا کہ جی! ہو گئی ہے۔آپ جب جستجو کرتے ہیں تو وہ بات نہیں ہوئی ہوتی تو یہاں وہ پھنس جاتا ہے۔پھر یہ بتانے کے لئے کہ اُس نے بیچ بولا تھا، بجائے بیچ بولنے کے اور یہ کہنے کے کہ مجھ سے غلطی ہوئی تھی ہیں نے اندازہ لگایا تھا۔وہ یہ کہتا ہے کہ فلاں شخص نے مجھ سے یہ بات کی تھی اور اس کا یہ مطلب نکلتا تھا۔چنانچہ میں نے سچ بولا ہے، فلاں شخص نے جھوٹ بولا تھا اور اس طرح ایک سے دوسری، دوسری سے تیسری بات نکلتی چلی جاتی ہے۔مجھے بار ہا تجربہ ہوا ہے کہ ایسے لوگ جو غیر ذمہ دارانہ باتیں کرتے ہیں وہ بالآ خر جھوٹ بولنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔بات کو ذمہ داری سے کرنا چاہئے۔جتنی بات معلوم ہے اتنی کرنی چاہئے جو معلوم نہیں اس کے متعلق اقرار کرنا چاہئے کہ مجھے معلوم نہیں ہے۔یہ تو عمومی معاشرے کی باتیں ہیں جن میں انسان کو احتیاط کرنی چاہئے۔پھر لطیفہ گوئی کی خاطر