خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 515
خطبات طاہر جلد ۹ 515 خطبہ جمعہ ۷ استمبر ۱۹۹۰ء ساری جماعت کو جھوٹ کے خلاف علم جہاد بلند کرنا ( خطبه جمعه فرموده ۷ ستمبر ۱۹۹۰ء بمقام ناصر باغ جرمنی ) تشہد و تعوذ اور سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور نے فرمایا: چاہیئے تیسری دنیا جس میں افریقہ بھی شامل ہے اور بہت سے ایشیا کے ممالک بھی شامل ہیں اور جنوبی امریکہ کے بھی بہت سے ممالک شامل ہیں ان کے مسائل دن بدن بڑھتے چلے جا رہے ہیں اور زیادہ اُلجھتے چلے جارہے ہیں اور زیادہ گمبھیر ہوتے چلے جارہے ہیں ۔ ان تمام مسائل کی بہت سی وجوہات ہیں، بہت سے محرکات ہیں ، بہت سے عوامل ہیں جن کے نتیجے میں یہ مسائل بڑھ رہے ہیں لیکن اگر ایک وجہ تلاش کی جائے تو آخری نقطہ جس کے گرد سارے مسائل گھومتے ہیں اور پھر بڑھتے پنپتے چلے جاتے ہیں وہ نقطہ جھوٹ کا نقطہ ہے۔ میں نے بڑی گہری نظر سے افریقہ کے حالات کا بھی جائزہ لیا ہے، مشرقی دنیا کے دیگر ممالک کے حالات کا بھی جائزہ لیا ہے اگر چہ بالعموم رجحان یہی پایا جاتا ہے کہ ہر نقص اور ہر برائی کو مغرب کے سر پر تھوپ دیا جائے اور یہ کہا جائے کہ مغربی دنیا نے ان ممالک کو مسائل میں ایسا اُلجھا رکھا ہے کہ ہوش نہیں آنے دیتے لیکن امر واقعہ یہ ہے کہ کوئی دنیا بھی کسی تیسری دنیا پر غالب نہیں آ سکتی جب تک اس دنیا میں اندرونی کمزوریاں نہ ہوں ۔ وہ جسم جو صحت مند ہوں وہ جراثیم کے گھیرے میں رہتے ہیں ، ہر سانس کے ساتھ لاکھوں کروڑوں جراثیم ان کے جسم میں داخل ہوتے ہیں۔ غذا کے ہر لقمے کے ساتھ جراثیم جسم میں داخل ہوتے ہیں لیکن ان کو اس کی کوئی بھی پرواہ نہیں ہوتی کیونکہ صحت مند جسموں کے اندر دفاع کی طاقت موجود ہوتی ہے۔ جب انسان کے دفاع کی طاقتیں کمزور ہو جائیں تو چھوٹے سے چھوٹا جرثومہ بھی ، چھوٹی سے چھوٹی بیرونی طاقت