خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 511
خطبات طاہر جلد ۹ 511 خطبه جمعه ۳۱ / اگست ۱۹۹۰ء پیراسائٹ کا تعلق ہوتا ہے یعنی ان کے جسموں پر وہ غالب آتے ہیں۔ان کے جسم کے سہارے زندہ رہتے ہیں اور اتنی تیزی سے وہ نشو نما پاتے ہیں کہ ان کی نشو ونما کو دنیا کی کوئی طاقت روک نہیں سکتی۔آنافانا ایک جرثومہ جسم میں داخل ہو کر بعض دفعہ چند گھنٹوں میں، بعض دفعہ چند دنوں میں ارب ہا ارب کی تعداد کو پہنچ جاتا ہے تو۔بدیاں بھی بالعموم اسی طرح تیزی کے ساتھ پھیلنے والی چیزیں ہیں اور نیکیوں کے لئے صبر چاہئے جس کا مطلب یہ ہے کہ نیکی آہستگی سے بڑھتی ہے اور پاؤں جما کر آگے بڑھنا پڑتا ہے۔پس اس پہلو سے جماعت احمدیہ کی جدو جہد بہت ہی اہم بھی ہے اور بہت مشکل بھی ہے۔اتنے کٹھن مراحل ہیں کہ ان کے اوپر آپ غور کریں تو ہوش اڑ جاتے ہیں کہ ہم میں طاقت کہاں ہے کہ ہم ان ذمہ داریوں کو ادا کرسکیں مگر خدا نے ہم پر جو ذمہ داری ڈالی ہے خواہ ادا نہ کرسکیں یعنی اپنے مقصد کو حاصل نہ کر سکیں اگر اس راہ میں مارے جائیں تو یہی نجات ہے، یہ نا کامی نہیں ہے۔چنانچہ حضرت اقدس محمد رسول اللہ اللہ نے ایک تو بہ کرنے والے کا نقشہ اس رنگ میں کھینچا جس کی تفصیل سے میں پہلے بھی آپ کو آگاہ کر چکا ہوں مگر اب صرف وہ حصہ بیان کرتا ہوں جس کا اس مضمون سے تعلق ہے۔ایک سالہا سال کا، عمر بھر کا گنہگار جب تو بہ کرنے کی خاطر صلحاء کے ایک شہر کی طرف جارہا تھا تو راستے میں اس کی موت آگئی لیکن مرنے سے پہلے وہ کہنیوں اور گھٹنوں کے بل گھسٹتا ہوا جہاں تک اس کی طاقت تھی اس سمت میں بڑھتا رہا۔وہ جانتا تھا کہ اسے اس کی موت سفر کے اختتام سے پہلے آئے گی۔وہ جانتا تھا کہ اس طرح گھٹنے کے باوجود وہ شہر جو ا بھی بہت دور تھا ، جو تقریباً نصف فاصلے پر تھا اس تک نہیں پہنچ سکے گا لیکن نیت میں صفائی تھی اور نیت میں مضبوطی تھی۔اس کا دل بے قرار تھا کہ جس طرح بھی ممکن ہو بدیوں کے شہر کو چھوڑ کر الی اللہ “ ہجرت کر سکوں۔چنانچہ وہ اس تمثیلی نظارے میں رسول اکرم ﷺ کو یوں دکھلایا گیا کہ وہ گھٹتا ہوا آخر دم تک کوشش کرتا رہا کہ وہ نیکوں کے شہر کی طرف بڑھ جائے۔بہت ہی پیاری تمثیل ہے جس کی تفاصیل میں پہلے بیان کر چکا ہوں لیکن یہ نکتہ آپ دیکھیں کہ اس کے بعد آنحضرت ﷺ کو بتلایا گیا کہ خدا کے فرشتے جو بدی اور نیکی کے فرشتے تھے، انہوں نے اس کا معاملہ خدا کے حضور پیش کیا۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ دونوں طرف کے فاصلے ناپو۔اگر بد شہر جس سے وہ ہجرت کر کے نیک شہر کی طرف جارہا تھا اس مقام سے قریب تر ہو۔جہاں اس نے جان دی ہے تو پھر اس کو بدوں میں شمار کرلو اور اگر وہ شہر جونیکیوں کا شہر تھا جو اس کی ہجرت کا