خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 497
خطبات طاہر جلد ۹ 497 خطبه جمعه ۲۴ /اگست ۱۹۹۰ء نے یہ نصیحت نہیں کی کہ اے مسلمانو! یہ دعا کا وقت ہے دعائیں کرو۔کیونکہ دعاؤں کے ذریعہ ہی تمہیں ن پر غلبہ نصیب ہوگا۔پس ایک جماعت ہے اور صرف ایک جماعت ہے جو مسیح محمد مصطفی ﷺ کی جماعت ہے جس کے متعلق خدا نے یہ مقدر کر رکھا تھا کہ اگر عالم اسلام کو بچایا گیا تو اس جماعت کی دعاؤں سے بچایا جائے گا لیکن شرط یہ ہے کہ وہ محمد مصطفی ﷺ کی عظمت میں پناہ لیں ، آپ کی تعلیم میں پناہ لیں ، آپ کے کردار میں پناہ لیں۔آپ کی سنت میں پناہ لیں اور پھر دعائیں کریں۔پس اس سارے مسئلے کا اگر کوئی عارضی حل تجویز بھی کیا گیا تو ایک بات تو بڑی واضح ہے کہ وہ حل پہلے سے بدتر حال کی طرف مشرق وسطی کے رہنے والوں کو بھی لوٹائے گا اور دنیا کو بھی لوٹائے گا۔بہت دردناک حالات پیدا ہونے والے ہیں اور جہاں تک بیماریوں اور دکھوں کا تعلق ہے اس کا کوئی حل نہیں ہوگا۔وہ حل اگر ہے تو آپ کے پاس یعنی مسیح محمدی" کی جماعت کے پاس ہے آپ دعائیں کریں اور دعائیں کرتے چلے جائیں کیونکہ یہ تکلیفوں کا زمانہ ابھی لمبا چلنے والا ہے۔ابھی حالات نے کئی پلٹے کھانے ہیں، کئی نئے ادوار میں داخل ہوتا ہے اس لئے دعا کے لحاظ سے ابھی تا خیر نہیں ہے۔ہم تو پہلے بھی دعائیں کرنے والے لوگ ہیں لیکن آج کی دنیا میں ان حالات کے پیش نظر، اس تجزیے کے پیش نظر جو میں نے آپ کے سامنے رکھا ہے، میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ دعا کے سوا آج ان دنیا کی امراض کا اور امت مسلمہ کی امراض کا اور کوئی چارہ نہیں اور اہل مغرب کے لئے بھی دعا کریں کہ خدا ان کو عقل دے، بار بار وہ اپنی چالا کیوں اور اعلیٰ سیاست کے ذریعے دنیا کے مسائل حل کرنے کی کوشش کر چکے ہیں اور ہر بار ناکام رہے ہیں ایک بار بھی ان کی چالاکیاں دنیا کے کام نہیں آئیں کیونکہ ان کی چالا کیوں میں خود غرضی ہوتی ہے اور نفسانیت محرک بنتی ہے آخری فیصلوں کے لئے۔پس عقل کل کا تقویٰ سے تعلق ہے یہ بات دنیا کو آج تک سمجھ نہیں آئی۔قرآن کریم جب تقویٰ پر زور دیتا ہے تو پاگل ملائیت پر زور نہیں دیتا۔ایسے تقویٰ پر زور دیتا ہے جس سے فراست پیدا ہوتی ہے۔جس سے مومن خدا کے نور سے دیکھنے لگتا ہے اور عقل کل اور تقوی دراصل ایک ہی چیز کے دو نام ہیں۔ہر چالا کی جو تقویٰ سے عاری ہوگی وہ لازماً بالآخرناکامی پر منتج ہوگی۔اسے چالا کی کہہ سکتے ہیں اسے عقل نہیں کہہ سکتے۔پس آج دنیا خواہ مشرق کی ہو یا مغرب کی ہو ، عقل کل سے عاری ہے کیونکہ تقویٰ سے عاری