خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 496
خطبات طاہر جلد ۹ 496 خطبه جمعه ۲۴ را گست۱۹۹۰ء نازل ہوگا اور مسیح اپنی جماعت کے ساتھ ان کے مقابلے کی کوشش کرے گا، ان کے مقابلے کا ارادہ کرے گا۔تب اللہ تعالیٰ مسیح سے یہ فرمائے گا۔لَا يَدَانِ لَاحَدٍ لِقَتَالِهِمَا کہ ہم نے جو یہ دو تو میں پیدا کی ہیں ان دونوں سے مقابلے کی دنیا میں کسی انسان کو طاقت نہیں بخشی تمہیں بھی نہیں بخشی۔ایک علاج ہے کہ تم پہاڑ کی پناہ میں چلے جاؤ اور دعائیں کرو۔(مسلم کتاب الفتن حدیث نمبر : ۵۲۲۸) دعا ہی وہ طاقت ہے جو ان قوموں پر غالب آئے گی اس میں پہاڑ سے کیا مراد ہے؟ میں سمجھتا ہوں کہ قرآن کریم وہ پہاڑ ہے جس کا ذکر فرمایا گیا ہے کیونکہ قرآن کریم کے متعلق فرماتا ہے کہ لَوْ اَنْزَلْنَا هَذَا الْقُرْآنَ عَلَى جَبَلٍ أَرَأَيْتَهُ خَاشِعًا مَّتَصَدِعَا مِنْ خَشْيَةِ الله (الحشر (۲۲) کہ یہ قرآن اگر ہم پہاڑ پر بھی اتارتے تو وہ اس کی عظمت سے خشیت اختیار کرتا اور ٹکڑے ٹکڑے ہو جاتا ، گر جاتا لیکن اس میں نصیحتیں ہیں ان لوگوں کے لئے آیات ہیں جو فکر کرنے کے عادی ہیں۔مراد یہ ہے کہ محمد مصطفی ﷺ کو پہاڑوں پر عظمت حاصل تھی۔محمد مصطفی ﷺ پہاڑوں میں سب سے سر بلند تھے۔دنیا کے پہاڑوں میں تو یہ طاقت نہیں تھی کہ اس کلام کی عظمت اور جلال کو برداشت کر سکے لیکن ایک محمد مصطفی ہیں جو سب سے سر بلند پہاڑ تھے اور سب سے قوی پہاڑ تھے۔پس مراد یہی ہے کہ محمد مصطفیٰ" کی عظمت کی طرف لوٹو اور آنحضرت ﷺ کی تعلیم میں پناہ مانگو۔اس سے طاقت پاؤ اور اگر تم محمد مصطفی میے کی عظمت کی طرف لوٹو گے اور اس میں پناہ لے کر دعائیں کرو گے تومحمد مصطفی یہ ہے کے سائے میں پلنے والی دعائیں کبھی نا کام نہیں جایا کرتیں۔اس عظمت سے پھر تم بھی حصہ پاؤ گے۔تمہاری دعا ئیں حصہ پائیں گی اور دوسر اسبق اس میں یہ ہے کہ اس زمانے کے تمام مسلمانوں میں سے کسی کے متعلق نہیں فرمایا کہ خدا ان کو کہے گا کہ تم دعائیں کرو۔صرف مسیح اور مسیح کی جماعت کے متعلق یہ فرمایا ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ ان لوگوں کا اس زمانے میں حقیقت میں دعا سے ایمان ہی اٹھ چکا ہو گا دعا کو وہ لوگ اہمیت نہیں دیں گے۔اس لئے جن لوگوں کو دعا کی اہمیت ہی کوئی نہیں ان کو دعا کا نسخہ بتا نا ہی بالکل بے کار بات ہے۔چنانچہ آپ دیکھ لیجئے کہ کتنے ہی مسلمان راہنماؤں کے بڑے بڑے بیانات آرہے ہیں۔کوئی کہتا ہے کہ امریکہ کی طرف دوڑو اور اس سے پناہ لواور اس سے مددلو اور کوئی ایران سے صلح کر رہا ہے یا اپنی تقویت کی اور باتیں بیان کر رہا ہے۔کسی ایک نے بھی خدا کی پناہ میں جانے کا اور محمد رسول اللہ ﷺ کی پناہ میں جانے کا کوئی ذکر نہیں کیا۔کسی