خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 489 of 845

خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 489

خطبات طاہر جلد ۹ 489 خطبه جمعه ۲۴ راگست ۱۹۹۰ء یعنی ایک راہنما کی حکومت الٹی ہے، ایک پارٹی کو الٹایا گیا ہے اور وہ امریکہ سے شکوہ کر رہے ہیں کہ عجیب لوگ ہیں ہمیں خبر ہی نہیں دی۔جس ملک میں رہتے ہو تمہیں اپنے ملک کی خبر نہیں اور شکوہ کر رہے ہو کہ ہمیں خبر نہیں دی پس شعور کی کمی جتنی زیادہ مشرق میں نمایاں ہوتی چلی جارہی ہے اور اپنے حالات سے بے حسی جتنی بڑھتی جارہی ہے اتنا ہی ان قوموں کے اندر دوسروں کا شعور بیدار ہو رہا ہے اور دوسروں کے معاملات میں جس تیز تر ہوتی چلی جارہی ہے۔پس یہ کیسے ممکن ہے کہ ان کو پتا نہ ہو کہ شاہ ایران نے کیسے سخت مظالم توڑے ہیں اور ان کا کتنا خطرناک رد عمل ہے جو ملک میں پنپ رہا ہے۔ان مظالم کے دوران اس کے سر پر ہاتھ رکھنے کی اول ذمہ داری امریکہ پر عائد ہوتی ہے اور دنیا کا کوئی باشعور انسان امریکہ کو اس ذمہ داری سے مبرا نہیں کرسکتا۔اس میں دشمنی یا جذبات کی بات نہیں ایک ایسی حقیقت ہے جو ادنی سی سمجھ رکھنے والا دانشور بھی آج یہ تسلیم کرنے پر مجبور ہے کہ شہنشاہیت جو ایران کی شہنشاہیت ہے وہ امریکہ کی پروردہ تھی اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والے سارے رد عمل کی ذمہ داری اصل میں امریکہ پر عائد ہوتی ہے اور اس رد عمل کو سنبھالنے کے لئے امریکہ نے جو طریق کار اختیار کیا وہ بھی ان کے مفاد میں یا ان کے نزدیک دنیا کے مفاد میں ضروری تھا۔وہ سمجھتے تھے کہ اس رد عمل سے اب دو ہی طاقتیں فائدہ اٹھا سکتی ہیں یا مینی ازم ، مذہب کی طاقت اور یا پھر اشتراکیت ہے اور اشتراکیت چونکہ زیادہ سخت دشمن تھی اور اس دور میں اگر اشتراکیت کو یہاں غلبہ نصیب ہو جاتا تو جو صلح آج روس اور امریکہ کے درمیان میں ہوئی ہے وہ کبھی واقعہ نہیں ہو سکتی تھی۔پھر صدامیت پیدا نہ ہوتی پھر روس کی طرف سے اور روسی ایران کی طرف سے مشرق وسطی کے امن کو شدید خطرہ درپیش ہوتا اور ایسا خطرہ درپیش ہوتا جس کا کوئی مقابلہ ان کے پاس نہیں تھا، مقابلہ کرنے کی کوئی طاقت ان کے پاس نہیں تھی۔پس بہر حال اپنے مفاد میں اور جسے جس طرح یہ پیش کرتے ہیں کہ ساری دنیا کے امن کے مفاد میں انہوں نے خمینی ازم کو پیدا کیا اور اس کی پرورش کی۔یہاں تک کہ جب وہ طاقت پکڑ گیا تو انہوں نے اپنی عقل استعمال کرتے ہوئے اپنے نظام کی بقاء کی خاطر اور امریکہ کے بداثرات سے اسے بچانے کے لئے ایک درمیانی راہ اختیار کی جو درمیانی راہ ان معنوں میں تھی کہ روس اور امریکہ کے بیچ میں چلتی تھی مگر اسلامی انصاف کے لحاظ سے وہ درمیانی راہ نہیں تھی کیونکہ انہوں نے اپنے دائیں بھی