خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 479
خطبات طاہر جلد ۹ 479 خطبہ جمعہ ۷ اراگست ۱۹۹۰ء ہے کیونکہ اسرائیل بڑے عرصے سے یہ شور مچا رہا ہے کہ ہمیں عراق کی طرف سے کیمیائی حملے کا خطرہ ہے اور ہماری چھوٹی سی ریاست ہے اگر عراق کیمیاوی حملہ کرے تو ہم صفحہ ہستی سے مٹ جاتے ہیں۔پس جو بھی خطرہ تھا وہ حقیقی تھایا غیر حقیقی اور اس کی ذمہ داری کس پر ہے اس بحث میں جائے بغیر یہ بات بہر حال قطعی اور یقینی ہے کہ سب سے بڑا ان حالات کا محرک اسرائیل ہے اور اسرائیل کے مفادات ہیں اور اس وقت تمام عالم اسلام گویا اسرائیل کے مفادات کی حفاظت کے لئے کھڑا ہو چکا ہے اور اس کے مقابل پر ایک ایسے اسلامی ملک کو برباد کر نے کا فیصلہ کیا جا چکا ہے جس کی یقیناً بعض حرکتیں غیر اسلامی تھیں اور تقویٰ اور انصاف کے خلاف تھیں لیکن اس کے باوجود اس بات کا سزاوار تو نہیں کہ اُس کو ہمیشہ کے لئے مٹا دیا جائے اور برباد کر دیا جائے۔انصاف کے خلاف ساری دنیا میں حرکتیں ہو رہی ہیں۔اس سے بہت زیادہ حرکتیں ہو رہی ہیں اور کوئی بڑی طاقت اُس کے لئے اپنی چھوٹی انگلی بھی نہیں ہلاتی۔اس لئے جو کچھ یہ کر رہے ہیں یہ انصاف کی خاطر نہیں کر رہے۔گہری دشمنیاں ہیں بعض انتقامات انہوں نے لینے ہیں اور یہ حملہ حقیقت میں اسلام پر حملہ ہے۔گو بظاہر ایک ایسے اسلامی ملک پر حملہ ہے جس کی اپنی حرکتیں بھی اسلامی نہیں رہیں۔پس یہ دشمنیاں بہت گہری ہیں اور تاریخی نوعیت کی ہیں اور یہ فیصلے بہت اونچی سطح پر کئے گئے ہیں کہ اس وقت ساری دنیا میں سب سے بڑی طاقت کے طور پر عراق اُبھر رہا ہے۔اگر اسے ابھرنے دیا گیا تو بعید نہیں کہ یہ ارد گرد کی ریاستوں کو ہضم کرنے کے بعد ایک متحد عالم اسلام مشرق اوسط میں پیدا کر دے جس میں ساری دنیا کی تیل کی دولت کا ایک معتد بہ حصہ موجود ہو اور اقتصادی لحاظ سے اس میں یہ صلاحیت موجود ہوگی کہ وہ باقی تمام باتوں میں بھی خود کفیل ہو جائے اور پھر غیر معمولی بڑی فوجی طاقت بن کر ابھرے یہ ان کے خطرات ہیں۔خطرات کچھ بھی ہوں آج سب سے بڑا خطرہ جو عالم اسلام کو دکھائی دینا چاہئے وہ یہ ہے کہ مسلمان ممالک کی تائید اور نصرت اور پوری حمایت کے ساتھ ایک اُبھرتی ہوئی اسلامی مملکت کو صغیر ہستی سے نیست و نابود کرنے کا فیصلہ ہو چکا ہے اور خود اس میں اس مملکت کے ارباب حل و عقد ذمہ دار ہیں۔ایسی صورت میں کیا ہو سکتا ہے؟ میں یہ سمجھتا ہوں کہ ابھی بھی وقت اتنا نہیں گزر چکا کہ حالات کو سنبھالا نہ جاسکتا ہولیکن مسلمانوں کے لئے سوائے اس کے کہ خدا اور رسول کی طرف لوٹیں اور کوئی نجات اور امن کی راہ نہیں