خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 477
خطبات طاہر جلد ۹ 477 خطبہ جمعہ ۱۷ اگست ۱۹۹۰ء شکست دینے میں پوپ سپین کی اسلامی مملکت کی تائید کرے گا اور اس زمانے میں چونکہ پوپ کا اثر مغربی سیاسی دنیا پر غیر معمولی طور پر زیادہ تھا بلکہ بعض پہلوؤں سے یہ کہا جاسکتا ہے کہ پوپ ہی کی حکومت تھی اس لئے یہ ایک بہت ہی بڑا خطرناک معاہدہ تھا اور یہ ایسی سازش تھی جیسے آج سعودی عرب تمام مغربی طاقتوں کے ساتھ مل کر یہ فیصلہ کرے کہ ایک اسلامی ملک کو تباہ کر دیا جائے اور وہ اسلامی ملک پھر وہی ملک ہو جس کا دارالخلافہ بغداد ہے۔ دوسری طرف بغداد نے ۲۷۲ یا ۲۷۳ ہجری میں قیصر روم کے ساتھ یہ معاہدہ کیا کہ قیصر روم اور بغداد کی حکومت یعنی عراق کی حکومت اُس وقت تو عراق اس لئے نہیں کہہ سکتے کہ عراق کے علاوہ بھی اسلامی مملکت پھیلی ہوئی تھی ، اس لئے اس زمانے کی اسلامی حکومت کو بغداد کی حکومت کہنا ہی زیادہ موزوں ہے تو بغداد کی حکومت اور قیصر روم کی طاقت مل کر سپین کی اسلامی مملکت کو تباہ کر دیں گے۔ پس یہ وہ سال ہے جو آئندہ ہمیشہ ہمیش کے لئے مسلمانوں کے امن کو تباہ و برباد کرنے کے لئے ہلاکتوں کے رستے کھولنے والا سال تھا اور اس کے بعد جب بھی بڑے بڑے واقعات اسلامی مملکتوں پر گزرے ہیں، ہمیشہ غیروں کی سازشوں میں بعض مسلمان ممالک ضرور شامل رہے ہیں ۔ ہلاکو خان کے ذریعے ۱۲۵۸ھ میں بغداد کو تباہ کروایا گیا یعنی تقدیر نے کروایا یا جو بھی حالات تھے اُن میں بھی تاریخ سے ثابت ہے کہ اس وقت المعتصم جو آخری عباسی خلیفہ تھا اور بہت کمزور ہو چکا تھا اُس کے وزیر اعظم نے یا وزیر نے مجھے جہاں تک یاد ہے غالباً وزیر اعظم تھے اور وہ شیعہ مسلک سے تعلق رکھتے تھے اور وہ اس المعتصم سے ناراض تھے اس وجہ سے کہ انہوں نے کیا نے بعض نہایت ظالمانہ کارروائیاں ظالمانہ کارروا شیعوں کے خلاف کیں ۔ یہ درست ہے کہ وہ کارروائیاں ظالمانہ تھیں اُن کا کوئی حق المعتصم کو نہیں پہنچتا تھا لیکن اس کا بدلہ انہوں نے اس طرح اُتارا کہ ہلاکو خان جو اپنے تسخیر کے ایک دورے پر تھا لیکن یہ خوف محسوس کرتا تھا کہ بغداد پر حملہ کرنا شاید معقول نہ ہوا اور شاید اس کے اچھے نتائج نہ نکلیں اُس کو اس وزیر نے پیغام بھجوایا کہ تمہیں معلوم نہیں کہ اس مملکت کا صرف رعب ہی رعب ہے اندر سے کھوکھلی ہو چکی ہے اور بعض اور ایسے اقدامات کئے جن کے نتیجے میں فوج کو منتشر کروادیا گیا۔ زیادہ جو فوج رکھی گئی تھی اس کے متعلق بادشاہ کو کہا گیا کہ خزانہ اس کا بار برداشت نہیں کر سکتا اس لئے اس کو کم کر دو۔ کچھ فوج کو ایسی سرحدوں کی طرف بھجوا دیا گیا جہاں سے کوئی خطرہ نہیں تھا۔ غرضیکہ ہلاکو خان کو