خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 477 of 845

خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 477

خطبات طاہر جلد ۹ 477 خطبه جمعه ۷ اراگست ۱۹۹۰ء شکست دینے میں پوپ سپین کی اسلامی مملکت کی تائید کرے گا اور اس زمانے میں چونکہ پوپ کا اثر مغربی سیاسی دنیا پر غیر معمولی طور پر زیادہ تھا بلکہ بعض پہلوؤں سے یہ کہا جاسکتا ہے کہ پوپ ہی کی حکومت تھی اس لئے یہ ایک بہت ہی بڑا خطرناک معاہدہ تھا اور یہ ایسی سازش تھی جیسے آج سعودی عرب تمام مغربی طاقتوں کے ساتھ مل کر یہ فیصلہ کرے کہ ایک اسلامی ملک کو تباہ کر دیا جائے اور وہ اسلامی ملک پھر وہی ملک ہو جس کا دارالخلافہ بغداد ہے۔دوسری طرف بغداد نے ۲۷۲ یا ۳ ۲۷ ہجری میں قیصر روم کے ساتھ یہ معاہدہ کیا کہ قیصر روم اور بغداد کی حکومت یعنی عراق کی حکومت اُس وقت تو عراق اس لئے نہیں کہہ سکتے کہ عراق کے علاوہ بھی اسلامی مملکت پھیلی ہوئی تھی، اس لئے اس زمانے کی اسلامی حکومت کو بغداد کی حکومت کہنا ہی زیادہ موزوں ہے تو بغداد کی حکومت اور قیصر روم کی طاقت مل کر سپین کی اسلامی مملکت کو تباہ کر دیں گے۔پس یہ وہ سال ہے جو آئندہ ہمیشہ ہمیش کے لئے مسلمانوں کے امن کو تباہ و برباد کرنے کے لئے ہلاکتوں کے رستے کھولنے والا سال تھا اور اس کے بعد جب بھی بڑے بڑے واقعات اسلامی مملکتوں پر گزرے ہیں، ہمیشہ غیروں کی سازشوں میں بعض مسلمان ممالک ضرور شامل رہے ہیں۔ہلاکو خان کے ذریعے ۱۲۵۸ھ میں بغداد کو تباہ کروایا گیا یعنی تقدیر نے کروایا یا جو بھی حالات تھے اُن میں بھی تاریخ سے ثابت ہے کہ اس وقت اعتصم جو آخری عباسی خلیفہ تھا اور بہت کمزور ہو چکا تھا اُس کے وزیر اعظم نے یا وزیر نے مجھے جہاں تک یاد ہے غالباوزیر اعظم تھے اور وہ شیعہ مسلک سے تعلق رکھتے تھے اور وہ المعتصم سے ناراض تھے اس وجہ سے کہ انہوں نے بعض نہایت ظالمانہ کارروائیاں شیعوں کے خلاف کیں۔یہ درست ہے کہ وہ کارروائیاں ظالمانہ تھیں اُن کا کوئی حق المعتصم کو نہیں پہنچتا تھا لیکن اس کا بدلہ انہوں نے اس طرح اُتارا کہ ہلاکو خان جو اپنے تسخیر کے ایک دورے پر تھا لیکن یہ خوف محسوس کرتا تھا کہ بغداد پر حملہ کرنا شاید معقول نہ ہو اور شاید اس کے اچھے نتائج نہ نکلیں اُس کو اس وزیر نے پیغام بھجوایا کہ تمہیں معلوم نہیں کہ اس مملکت کا صرف رعب ہی رعب ہے اندر سے کھوکھلی ہو چکی ہے اور بعض اور ایسے اقدامات کئے جن کے نتیجے میں فوج کو منتشر کروا دیا گیا۔زیادہ جو فوج رکھی گئی تھی اس کے متعلق بادشاہ کو کہا گیا کہ خزانہ اس کا بار برداشت نہیں کر سکتا اس لئے اس کو کم کر دو۔کچھ فوج کو ایسی سرحدوں کی طرف بھیجوا دیا گیا جہاں سے کوئی خطرہ نہیں تھا۔غرضیکہ ہلاکو خان کو