خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 463 of 845

خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 463

خطبات طاہر جلد ۹ 463 خطبه جمعه ۱۰ اگست ۱۹۹۰ء یہی ہے کہ خدا سے محبت کا تعلق ہوا اور پیار کا تعلق ہوا اور یہ محبت ہر دوسرے رشتے پر غالب ہو۔ جتنے لوگ دنیا میں ٹھوکر کھاتے ہیں وہ اس مقام پر جا کر ٹھو کر کھاتے ہیں جہاں خدا کی محبت ٹھوکر سے دنیا کی محبت یا اولاد کی محبت یا اپنی عزت کی محبت آگے اونچا سر نکالے ہوئے کھڑی ہوتی ہے۔ جب تک ان کا امتحان اس مقام تک نہیں پہنچتا وہ مخفی رہتے ہیں۔ یعنی ان کا نفاق مخفی رہتا ہے۔ ان کی نیکی مخفی نہیں رہی ان کی نیکی ظاہر رہتی ہے اور ان کا نفاق مخفی رہتا ہے۔ جب ابتلاءاتنا سر اُٹھالے بلند ہو جائے کہ وہاں جا کر خدا کی محبت کو تاہ رہ جائے اور اس کا قد چھوٹا ر ہے اور ان کی اولاد کی محبت اور مال کی محبت اور عزت نفس کی محبت اونچی نکلی ہوئی ہو تو وہ ابتلاء پھر ان کو خدا سے الگ کر دیتا ہے۔ اس وقت وہ ننگے ہوتے ہیں۔ اس وقت وہ ظاہر ہوتے ہیں اور پتا چلتا ہے کہ یہ کیا تھے جواب ابھر کر Surface پر یعنی سطح آب پر ابھر کر نکلے ہیں تو کیا شکل نکلی ہے۔ سطح آب کے نیچے ڈوبی ہوئی ہزار چیزیں ہیں۔ کہیں بھیانک مردہ جانور بھی ہیں ۔ کہیں بڑی بڑی خوبصورت مچھلیاں بھی ہیں۔ باہر آئیں تو پتا چلے نا۔ تو ابتلاء یہ کام کیا کرتا ہے کہ اندرونی گندے وجود کا سر جب باہر نکلتا ہے تو نہایت بھیانک اور مکروہ شکل میں نکلتا ہے ۔ اس وقت پتا چلتا ہے کہ ان کی خدا کی محبت کا قد بس اتنا سا ہی تھا اور اپنی محبتوں کے قداس سے بہت اونچے تھے۔ پھر وہ خدا کی محبت کے بغیر وجود نکلتا ہے اور وہ مکروہ ہوتا ہے۔ لیکن اہل اللہ کو ابتلاء اور رنگ میں دکھاتے ہیں۔ ان کی نیکیاں مخفی ہوتی ہیں اور جب ابتلاء ان کو اچھالتے ہیں تو ان کی اپنی ساری محبتیں پیچھے رہ جاتی ہیں، ڈوبی ہوئی رہ جاتی ہیں ، صرف خدا کی محبت کے ساتھ وہ چلتے ہیں اور خدا کی محبت کے ساتھ دنیا پر جلوہ گر ہوتے ہیں، ایسے لوگوں کو خدا کبھی نہیں چھوڑتا۔ ہمیشہ ان کی حفاظت فرماتا ہے۔ ان کے ساتھ رہتا ہے۔ اسی کا نام اللہ کی معیت ہے، معیت کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ چار قدم کی معیت اور پھر خدا پیچھے اور آپ آگے۔ یہ معیت کا مطلب ہے رَحْمَةٌ لِلَّذِينَ آمَنُوا (التوبہ: (۶) کہ وہ ایمان لانے والے جن کے ساتھ اللہ تعالیٰ ہے وہ یہ ہوتے ہیں جو دین کو خدا کے لئے خالص کرتے ہیں اور ہر دوسرے کے مقابل پر خدا کی محبت کو غالب سمجھتے ہیں اس کے ہو کے رہ جاتے ہیں۔ پس اس مضمون کو سمجھ کر یہ دعا کرنی چاہئے کہ ہم احمدیوں کو کثرت کے ساتھ ایسے خدا والے عطا ہوں یا جماعت احمد یہ کو کہنا چاہئے کہ کثرت کے ساتھ