خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 462
خطبات طاہر جلد ۹ 462 خطبه جمعه ۱۰ اگست ۱۹۹۰ء شخص نہ مطمئن ہو سکتا ہے نہ اسے مطمئن ہونے کا کوئی حق حاصل ہے جب تک وہ خدا سے اس کے پیار کی علامتیں نہ حاصل کر لے اور یہ علامتیں وہ خود بیان کر کے اپنے ڈھنڈورے نہیں پیٹا کرتا لیکن دن بدن اس کے دل میں خدا تعالیٰ کی طرف سے پیار کے جلوے نازل ہوتے ہیں اور اس کی کیفیت بدلنے لگتی ہے۔پھر لوگ اس کو دیکھتے ہیں پھر خدا اس کو بعض دفعہ ظاہر کرتا ہے اور بعض دفعہ نہیں کرتا اور دونوں صورتوں میں خدا کے ایسے بندے جو حُنَفَاء للہ ہوں وہ کلیۂ مطمئن رہتے ہیں بلکہ بعض دفعہ نہ ظاہر کرنے کی صورت میں زیادہ مطمئن ہوتے ہیں اور مزے کر رہے ہوتے ہیں اپنی ذات میں، ظاہر ہوتے ہیں تو خدا کی خاطر ہوتے ہیں اور دنیا کو خدا کی طرف بلانے کے لئے ظاہر ہوتے ہیں۔پس آنحضرت مہ جب ظاہر نہیں تھے اس وقت بھی وہ خدا کے تھے اور خدا سے اسی طرح راضی تھے جب ظاہر ہوئے تو وہ جو اندرونی سکون تھا اور اطمینان نصیب تھا اس کی قربانی دے کر ظاہر ہوئے ہیں اور بہت بھاری قیمت دینی پڑی مگر چونکہ خدا کی خاطر ہوا اس لئے پھر بھی مطمئن رہے۔جوریا کا رلوگ ہیں ان کا الٹ حساب ہوتا ہے۔وہ جب تک ظاہر نہ ہوں یعنی اپنے آپ کو ظاہر نہ کریں اس وقت تک وہ بے چین رہتے ہیں۔اس وقت تک ان کی زندگی عذاب میں مبتلا رہتی ہے۔جب وہ اپنے آپ کو ظاہر کر دیں تو پھر ان کے بوجھ ہلکے ہو جاتے ہیں۔پس اہل اللہ کا مخفی ہونا اور حیثیت رکھتا ہے اور دنیا داروں کا مخفی رہنا اور حیثیت رکھتا ہے اہل اللہ کا ظاہر ہونا اور حیثیت رکھتا ہے اور دنیا داروں کا ظاہر ہونا بالکل اور حیثیت رکھتا ہے۔خدا کے بندے جب ظاہر ہوتے ہیں تو تکلیف کے ساتھ ظاہر ہوتے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام کی کتب کا مطالعہ کریں اور آپ اشعار کا مطالعہ کریں تو یہی مضمون ملتا ہے فرماتے ہیں۔مجھے تو دنیا میں نکلنے کا کوئی شوق نہیں تھا۔بڑے اطمینان سے میں تیری محبت کے سائے تلے تیری محبت میں ڈوبا ہوا زندگی بسر کر رہا تھا۔تو نے مجھے نکالا ہے تو میں نکلا ہوں اور تیری خاطر نکلا ہوں پس اگر تیری نیت خالص ہو یعنی مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ حُنَفَاء کے درجے سے انسان تعلق رکھتا ہو تو اس کے بعد اس کی ہر ہجرت خدا کی طرف ہوتی ہے۔وہ مخفی رہ کر بھی خدا کے ساتھ زندگی بسر کر رہا ہوتا ہے۔وہ ظاہر ہو کر بھی خدا کی طرف حرکت کر رہا ہوتا ہے اور اس پہلو سے اس کے اخلاص کےاوپر خدا اس کے اخفاء کی حالت میں بھی گواہ رہتا ہے اور اس کی اعلانیہ حالت میں بھی گواہ رہتا ہے۔شرط