خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 461 of 845

خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 461

خطبات طاہر جلد ۹ 461 خطبه جمعه ۱ اگست ۱۹۹۰ء میں سچا پیار نہیں ہوتا۔پس دنیا سے پیار ہونا اور چیز ہے اور اہل دنیا سے پیار ہونا اور چیز ہے۔اہل دنیا سے پیار صرف اسی وقت نصیب ہوتا ہے جب خدا تعالیٰ سے پیار ہو۔پس یہاں بھی وہی مضمون ہے کہ زکوۃ بھی تب قبول ہوگی اگر اللہ سے پیار ہوگا اور زکوۃ کا سلیقہ بھی تب آئے گا اگر خدا تعالیٰ سے پیار ہوگا۔پس تمام جماعت کو اب اس پہلو پر زور دینا چاہئے اور اپنی عبادتوں کو ضائع نہیں کرنا چاہئے۔کیا پتا ہم ساری عمر عبادتیں کرتے رہے ہوں اور ساری عمر چندے بھی دیئے رہے ہوں لیکن خدا کی محبت غالب نہ ہو تو یہ ساری چیزیں ضائع ہو رہی ہوں اس لئے جب سودے کرنے ہیں تو سودوں کی قیمت وصول کرنی ہے۔ایسی زندگی کا کیا فائدہ کہ انسان قربانی بھی کر رہا ہواور قربانی کا حاصل بھی کچھ نہ ہو۔ایک ایسی جگہ کاشت کر رہا ہو جو زمین پیداوار کی اہلیت نہیں رکھتی۔میں نے دیکھا ہے بعض بیچارے زمیندار لوگ ساری عمر ایسی زمین پر ٹکریں مارتے رہتے ہیں جہاں سے نکلتا کچھ نہیں۔وہ قرضوں میں دبے رہتے ہیں۔بچے ان کے نوکریاں کر کے ان کو پال رہے ہوتے ہیں لیکن وہ زمین کا پیچھا نہیں چھوڑتے۔تو وہی کاشت وہی محنت اچھی ہے جس سے نتیجے میں پھل حاصل ہو۔پس اگر عبادتیں کرنی ہیں تو پھلدار عبادتیں کریں، اگر چندے دینے ہیں تو پھل دار چندے دیں ، اگر عوام الناس کی خدمت کرنی ہے تو ایسی خدمت کریں جس کے نتیجے میں آپ کو کچھ حاصل ہو اور اس میں دونوں طرف محبت کی شرط رکھ دی گئی ہے۔اگر محبت سے عبادتیں کرو گے، اگر محبت سے نمازیں قائم کرو گے، اگر محبت سے صدقات دو گے تو یہ محمد رسول اللہ ﷺ کی پیروی ہو گی۔اِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّونَ اللهَ فَاتَّبِعُونِي اور محمد مصطفی ﷺ کی سچی پیروی کے نتیجے میں فرمایا: يُحبكُمُ الله تمہارا پھل یہ ہے کہ اللہ تم سے محبت کرنے لگے گا۔اب اگر اللہ محبت کرنے لگے تو یہ بات کی چھپی نہیں رہ سکتی۔یہ ایسی بات نہیں ہے جس کے لئے کہنے والے کو ڈھنڈورے پیٹنے پڑیں۔اس کے نتیجے میں علامتیں ظاہر ہوا کرتی ہیں۔اہل اللہ کی اپنی علامتیں ہیں اور وہ غیر اللہ کے سوا جو کسی اور کے بندے بنتے ہیں ان سے وہ علامتیں اہل اللہ کوممتاز کر دیا کرتی ہیں۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس مضمون کو بڑی تفصیل کے ساتھ اپنے گہرے اور لمبے تجربے کی روشنی میں بیان فرمایا ہے۔اس لئے یہ ساری باتیں اپنی جگہ درست لیکن جب تک آخری نتیجہ نہ نکلے، کوئی