خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 457
خطبات طاہر جلد ۹ 457 خطبه جمعه ۱ اگست ۱۹۹۰ء کو بڑھانا شروع کر دیتا ہے اور اس کی بدی کے دائرے کو کم کرنا شروع کر دیتا ہے یہاں تک کہ وہ نقطہ جو جیم“ کا جف کا نقطہ ہے وہ کلی مٹ جاتا ہے اور اس کا انجام پھر حسنف پر ہوتا ہے تبھی قرآن کریم نے ہمیں یہ دعا اصرار سے سکھائی وَتَوَفَّنَا مَعَ الْأَبْرَارِ اے خدا! ہمیں ایسی حالت میں وفات دینا کہ ہم تیرے نزدیک ابرار میں شمار ہو چکے ہوں۔اسی لئے انجام بخیر کی دعا کی طرف اولیاء نے بہت توجہ کی ہے اور بار ہا انجام بخیر کی دعامانگا بھی کرتے تھے اور دوسروں سے اس کی درخواست بھی کیا کرتے تھے۔مجھے یاد ہے قادیان میں بچپن میں جب صحابہ کی اکثریت وہاں پھرا کرتی تھی تو اس زمانے میں اکثر صحابہ جو دعا کی درخواست کیا کرتے تھے وہ انجام بخیر کی دعا کی درخواست کیا کرتے تھے اور سب سے پہلے یہ بات میں نے ان ہی سے سیکھی۔اس وقت سمجھ نہیں آیا کرتی تھی کہ یہ بزرگ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو پانے والے، دین کی صف اول کے لوگ یہ ہم بچوں سے یہ کیوں درخواست کرتے ہیں کہ دعا کرو کہ ہمارا انجام بخیر ہو۔بعد میں جب قرآن کریم کے مطالعہ سے زیادہ سمجھ آئی تو اس وقت پتا چلا کہ انجام بخیر سے مراد صرف یہ نہیں ہے کہ ہلاک ہونے والوں میں نہ ہم مریں بلکہ جس رستے پر خدا ڈالتا ہے اس کے اختتام تک پہنچیں۔اپنی نیکی کا انتہائی عروج حاصل کریں۔ہر شخص کی انتہاء الگ الگ ہے۔ہر شخص کو خدا تعالیٰ نے نیکی کا ایک دائرہ بخشا ہے۔اس دائرے تک اس کی نیکی پھیل سکتی ہے۔وہ اس کی حدود ہیں یا آسمان کی رفعتوں میں اس کا ایک نقطہ ہے جس تک وہ پہنچ سکتا ہے۔وَتَوَفَّنَا مَعَ الْأَبْرَارِ یا نیک انجام کی دعا کا یہ مطلب ہوگا کہ اے خدا! ہمیں اس نقطہ عروج تک پہنچا دے جو ہماری ذات کے تعلق میں ہمیں ابرار میں داخل کر دے یعنی بر ہی پر رہے اور بدی کا کوئی پہلو باقی نہ رہے۔حضرت مصلح موعودؓ کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی جو پیشگوئی تھی اس میں یہ تھا کہ جب وہ اپنے کام مکمل کر لے گا تب وہ اس نقطہ آسمان کی طرف رفع کرے گا جو اس کے لئے مقدر ہے۔پس ابرار میں مرنے یا نیک انجام پانے سے مراد یہی ہے کہ اے اللہ ! ہمیں اس وقت تک زندہ رکھ اور رفتہ رفتہ اس مقام کی طرف ہماری راہنمائی فرماتا چلا جا جس مقام میں جا کر دنیا کا کوئی نقطہ باقی نہیں رہتا اور خالصہ ہم تیرے ہو جاتے ہیں۔