خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 395 of 845

خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 395

خطبات طاہر جلد ۹ 395 خطبہ جمعہ ۱۳؍ جولائی ۱۹۹۰ء کہ اُس کی اطاعت کرو تو اُس وقت ابلیس نے اطاعت سے انکار کر دیا اور یہ کہا کہ میں اس سے بہتر ہوں کیونکہ مجھے تو نے آگ سے پیدا کیا ہے اور اس کو گیلی مٹی سے پیدا کیا ہے۔پس ایسی صورت میں ہمیشہ میں بہتر ہوں کی آواز اُٹھتی ہے یا ساتھیوں کی طرف سے فلاں بہتر ہے کی آواز اُٹھتی ہے اور جب مجھے شکایتیں پہنچتی ہیں تو اُن کا خلاصہ کلام یہی ہوتا ہے کہ انتخاب ہوا اور اچھے آدمیوں کو چھوڑ دیا گیا اور غلط آدمی کو اختیار کر لیا گیا حالانکہ علم کے لحاظ سے ، دولت کے لحاظ سے یا فلاں فلاں لحاظ سے شخص بہت زیادہ اہمیت رکھتا تھا اور عہدہ اس کے سپر د ہونا چاہئے تھا۔پس وہ چند لوگ جو نہ خود متقی ہوتے ہیں نہ خدا کی نظر میں اس لائق ہوتے ہیں کہ اُن کا امام متقی ہو۔وہ اپنا ایک غیر متقی امام الگ بنا لیتے ہیں اور ان جماعتوں میں اُن غیر متقیوں کے محدود دائرے کے اندر پھر مجالس لگنی شروع ہو جاتی ہیں۔منصوبے بنائے جاتے ہیں اور دن رات اُن کا مشغلہ اس کے سوا کوئی نہیں ہوتا کہ جماعت کی مقامی قیادت کو اُلٹا دیں اور اُن کے متعلق دن رات شکائیتیں لکھنا شروع کریں۔چنانچہ بعض ایسے لوگ شکایتیں بھیجنے میں وقف ہو جاتے ہیں۔ادنی سا قصور بھی اگر جماعت کی قیادت سے سرزد ہو اور ظاہر بات ہے کہ انسان میں کمزوریاں ہیں ، خامیاں ہیں اور ہر لحاظ سے وہ کامل نہیں ہوسکتا تو بعض صدران اپنی ذمہ داریوں کی ادائیگی میں بعض کمزوریاں بھی دکھا دیتے ہیں۔بعض ایسے امام الصلوۃ منتخب ہو جاتے ہیں جن کو قراءت پوری طرح نہیں آتی۔بہر حال کسی قسم کی کوئی کمزوری ہو اُس پر پھر وہ نظر رکھ کر اُس کو اُچھالتے ہیں اور ایسی چٹھیاں مثلاً ملنی شروع ہو جاتی ہیں کہ فلاں شخص کو جماعت نے اپنا امام الصلوۃ مقرر کیا ہے اور وہ قراءت اچھی نہیں جانتا اور فلاں صاحب جن کو رڈ کر دیا گیا ہے وہ بہت اچھی قراءت جانتے ہیں۔اس لئے کیا ایسے شخص کے پیچھے ہم لوگوں کی نماز ہو جائے گی ؟ واقعہ یہ ہے کہ ایسے لوگوں کی کسی کے پیچھے بھی نماز نہیں ہوتی کیونکہ خدا تعالیٰ نے اُن کو متقی امامت سے الگ کر دیا ہوتا ہے۔جس کا امام متقی نہیں اُس کے ماننے والے متقی کیسے ہو سکتے ہیں؟ اور جو غیر متقی اپنا ایک غیر متقی امام بنا لیتے ہیں ان کی نماز کہیں بھی نہیں ہوتی اور وہ اس مضمون کو بھول جاتے ہیں کہ انہوں نے خود اپنا تعلق تقوی سے کاٹ کر خدا تک جتنے بھی سلسلے ہیں اُن سب کو شروع سے کاٹ لیا ہے۔ایک تیسری قسم کی اشتراک والی قیادت اس طرح ابھرتی ہے کہ کسی شخص کے امیر سے یا