خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 380
خطبات طاہر جلد ۹ 380 خطبہ جمعہ ۶ جولائی ۱۹۹۰ء ہمارے بہت سے گھر ایسے ہیں جو اس آیت کی دعا کی برکت سے محروم ہیں اور اس دنیا میں وہ گھر سکینت نہیں بن سکے اور جنت نشان نہیں کہلا سکتے جبکہ ہم نے تمام دنیا کے گھروں کو سکینت عطا کرنی ہے اور چونکہ اس آیت کا مضمون صرف حاضر ہی سے تعلق نہیں رکھتا بلکہ مستقبل سے اور بہت دور تک مستقبل سے تعلق رکھتا ہے اس لئے اس آیت کو نہ صرف موجودہ نسلوں کی تربیت میں اور گھروں کے ماحول کو بہتر بنانے میں ایک گہرا دخل ہے بلکہ آئندہ زمانوں کی نسلوں کو سنبھالنے کا بھی اس آیت کے مضمون سے گہرا تعلق ہے۔پہلی بات جو آج میں آپ کے سامنے رکھنی چاہتا ہوں وہ یہ ہے کہ یہ دعا حقیقت میں ایک ایسی نفسیاتی کیفیت کا تقاضا کرتی ہے جو اگر حاصل ہو جائے تو اس دعا کی قبولیت کا ایک نشان و ہیں اسی دل میں ظاہر ہو جاتا ہے اور اگر حاصل نہ ہو تو جتنا چاہیں یہ دعا کرتے چلے جائیں اس دعا کو قبولیت کا پھل نہیں لگے گا۔مثلاً وہ خاوند جو اپنی بیویوں سے مستقل بداخلاقی کا سلوک کرتے ہیں اور بدزبانی کا سلوک کرتے ہیں اور نیچا دکھانا چاہتے ہیں اور گھر میں ان کو لونڈیوں کی طرح تابع فرمان اور کام کرتا ہوا دیکھنا چاہتے ہیں، وہ اگر اس کیفیت کو تبدیل نہ کریں تو یہ دعا ان کے منہ سے نکل ہی نہیں سکتی۔جب تک ان کے دل میں یہ خواہش پیدا نہ ہو کہ یہ بیوی جس کو میں چڑیل سمجھتا ہوں جس کے ساتھ میں لونڈیوں سے بدتر سلوک کرتا ہوں، جس کی اس کی اولاد کے سامنے بے عزتی کرتا ہوں۔میں اس بیوی سے تسکین مانگ رہا ہوں کیسے ممکن ہے؟ پس جو شخص واقعۂ دل کے خلوص کے ساتھ اسی بیوی سے تسکین چاہتا ہے جس سے وہ بدسلوکی کر رہا ہے جب تک اپنی کیفیت میں اور اپنے سلوک میں تبدیلی پیدا نہیں کرتا اس وقت تک نہ یہ دعا اس کو زیب دیتی ہے نہ اس کے منہ سے نکل سکتی ہے اور اگر کرے گا بھی تو ایک کھوکھلی اور بے معنی آواز کے سوا اس دعا کی کوئی حیثیت نہیں ہوگی۔پس وہ لوگ جو اپنی بیویوں سے تنافر کے باوجود ان سے مزاج کی دوری کے باوجود اور اس بحث میں پڑے بغیر کہ قصور ان کا ہے یا بیوی کا ہے دیانتداری اور اخلاص کے ساتھ خدا کے حضور اپنے معاملات پیش کر دیتے ہیں اور یہ عرض کرتے ہیں کہ ہم اپنے تعلقات کو سلجھا نہیں سکے اگر ایک مرد ہے تو یہ دعا کرے گا اور عورت ہے تو وہ بھی یہ دعا کرے گی کہ جہاں تک میری کوششوں کا تعلق ہے اگران