خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 375
خطبات طاہر جلد ۹ 375 خطبہ جمعہ ۲۹ جون ۱۹۹۰ء لوگ پھر تربیت میں بے شمار غلطیاں کرتے ہیں۔فرمایا اگر تمہیں تقویٰ کے سوا کسی اور چیز میں آنکھوں کی ٹھنڈک نصیب ہوئی تو یا درکھنا کہ نہ تمہارے حق میں یہ دعا قبول ہوگی ، نہ تم اولاد کی تربیت کے اہل بنو گے۔اگر تم آنکھوں کی ٹھنڈک ان کی دنیاوی ترقیوں میں ہی دیکھ رہے ہو، اگر تمہیں اس بات پر فخر ہے کہ بیٹی سنگھار پٹارا اچھا کرتی ہے یا کپڑوں میں اس کا ذوق اچھا ہے۔یا اس کی سہیلیاں زیادہ ہیں یا دنیا کے لحاظ سے بلند مقام رکھتی ہے اور ہر دلعزیز ہوتی چلی جارہی ہے اور پڑھائی میں بہت اچھی ہے اور ان باتوں پر تمہاری آنکھیں ٹھنڈی ہوتیں اور تم اس کے اوپر وارے وارے جاتے ہو اور کہتے یہ دیکھو ہماری بیٹی گھر میں آگئی ہے آج اس نے یہ کیا، آج وہ کیا اور تمہیں دل کا سکون انہیں باتوں میں نصیب ہو گیا تو تم پھر یہ دعا کیسے کرو گے کہ وَ اجْعَلْنَا لِلْمُتَّقِيْنَ اِمَامًا کیوں مانگی گئی ہے؟ آنکھوں کی ٹھنڈک اور آنکھوں کی ٹھنڈک کا تقویٰ سے تعلق باندھ دیا گیا اور فرمایا خالی منہ سے دعائیں کرنا کوئی حقیقت نہیں رکھتا جب تک اس مضمون پر تم عمل کرنے والے نہ ہو۔یہ مضمون تمہاری زندگیوں کا حصہ نہ بن چکا ہے پس اگر واقعی اولاد کی نیکی دیکھ کر آنکھیں ٹھنڈی ہوتی ہیں اگر اولاد کی نیکی دیکھ کر ان کی راہوں میں آنکھیں بچھنے لگ جائیں اور انسان کا دل خوشیوں سے بلیوں اچھلنے لگے اور خوشی کے ساتھ سجدہ ریز بھی ہو جائے کیونکہ روحانی دنیا میں یہ کیفیت اکٹھی پائی جاتی ہے خوشی سے دل اچھلتا بھی ہے اور خدا کے حضور سجدہ ریز بھی ہو جاتا ہے تو پھر تم یہ دعا مانگ سکتے ہو کہ واجْعَلْنَا لِلْمُتَّقِيْنَ اِمَامًا اے خدا! ہمیں آنکھوں کی ٹھنڈک نصیب کر اور تقویٰ والی اولا دعطا کر۔اس کے بغیر تمہاری اپنی خواہشات اور اپنی تمنا ئیں تو دنیا کے رستوں پر چل رہی ہوں اور اپنی اولاد کی دنیا کی ترقیات سے تم راضی ہو چکے ہو اور اگر وہ عبادت نہیں کرتے تو تمہیں دکھ نہ ہوتا ہو۔اگر وہ نیکیاں اختیار نہیں کرتے تو تمہیں تکلیف نہ ہو اگر وہ جھوٹ بولنے الے ہوں تو تمہارے دل عذاب میں مبتلا نہ ہو جائیں اور اگر وہ لغویات میں ایسے محو ہوں کہ ذکر الہی کے مقابل پر لغویات کو اہمیت دینے والے ہوں تو پھر تمہاری آنکھوں کی ٹھنڈک غیر متقین میں ہے اور تمہاری یہ دعا ئیں بالکل کھو کھلی ہو جائیں گی۔پس وہ لوگ جو بعض دفعہ یہ شکایت کرتے ہیں کہ جی ! ہماری دعائیں قبول نہیں ہوتیں آپ ہمارے لئے دعا کریں۔بعض دفعہ تو ایسے لوگوں کے لئے دوسروں کی دعائیں کارآمد ثابت ہوتی ہیں مگر ایسے مضمون میں جو میں بیان کر رہا ہوں غیر کی دعا کام نہیں آسکتی کیونکہ انسان کے اپنے اعمال اور