خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 33
خطبات طاہر جلد ۹ 33 خطبہ جمعہ ۱۹/جنوری ۱۹۹۰ء رسول کریم ﷺ نُورٌ عَلَى نُورٍ تھے نور محمد اللہ سے دنیا کے اندھیروں کو اجالوں میں بدل دیں خطبه جمعه فرموده ۱۹ جنوری ۱۹۹۰ء بمقام بیت الفضل لندن ) تشہد وتعوذ اور سورہ فاتحہ کے بعد حضور نے درج ذیل آیت کریمہ تلاوت کی : ياَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللهَ وَامِنُوا بِرَسُولِهِ يُؤْتِكُمْ كِفْلَيْنِ مِنْ رَّحْمَتِهِ وَيَجْعَل لَّكُمُ نُورًا تَمْشُونَ بِه وَيَغْفِرْ لَكُمْ وَاللَّهُ غَفُورٌ رَّحِيمٌن (الحديد :٢٩) ، پھر فرمایا: یہ آیت جو میں نے تلاوت کی ہے۔اس کا ترجمہ یہ ہے کہ اے ایمان والو! اللہ کا تقویٰ اختیار کرو اور اس کے بھیجے ہوئے رسول پر ایمان لاؤ اللہ تعالیٰ اس کے نتیجے میں تمہیں اپنی رحمت سے دو ہرا حصہ عطا فرمائے گا۔وَيَجْعَل لَّكُمْ نُورًا اور تمہارے لئے ایک عظیم الشان نور تیار فرمائے گا۔تمشون یہ جس کی روشنی میں تم چلو گے۔وَيَغْفِرْ لَكُمْ اور وہ تم سے بخشش کا سلوک فرمائے گا۔وَاللهُ غَفُورٌ رَّحِیم اور اللہ تعالیٰ بہت بخشنے والا اور بہت رحم کرنے والا ہے۔اس آیت کریمہ میں سب سے پہلی بات جو نظر کو پکڑتی ہے وہ یہ ہے کہ اگر چہ خطاب مومنوں سے ہے لیکن پہلی نصیحت یہ فرمائی گئی کہ اللہ کے رسول پر ایمان لے آؤ۔وہ لوگ جو ایمان لے آئے ہیں ان کو یہ کہنا کہ ایمان لے آؤ! کچھ عجیب سی بات معلوم ہوتی ہے لیکن جب انسان اس پر