خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 364
خطبات طاہر جلد ۹ 364 خطبہ جمعہ ۲۹ جون ۱۹۹۰ء فَإِنَّهُ يَتُوبُ اِلَى اللهِ مَتَابًا یہی وہ شخص ہے جو حقیقی معنوں میں خدا کی طرف بڑی کچی تو بہ کے ساتھ رجوع کرنے والا ہے۔یہاں تو بہ کے مضمون کو دو دفعہ باندھا ہے۔پہلے تو بہ کا ذکر فرمایا پھر اس کے معاً بعد عَمِلَ صَالِحًا فرمایا۔جس کا مطلب یہ ہے کہ توبہ کی تعریف میں صرف منفی پہلو نہیں بلکہ حقیقی تو بہ میں ایک مثبت پہلو بھی شامل ہے۔عام طور پر تو بہ سے لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ گنا ہوں سے بچنے کا عہد کرنا تو بہ ہے۔لیکن قرآن کریم خلا کا قائل نہیں اور کائنات میں خلا حقیقت میں کہیں بھی موجود نہیں۔خلا کا معنی ہی نفی ہے اور یہ ایک ایسا لفظ ہے جو اپنی ذات کی نفی کرتا ہوا دکھائی دیتا ہے۔پس یہ وہم کہ دنیا میں کہیں خلا ہے یا ساری کائنات میں کہیں خلا ہے یہ محض واہمہ ہے اس میں کچھ بھی حقیقت نہیں۔جس جگہ آپ خلا سمجھتے ہیں وہاں ماحول سے کچھ نہ کچھ اندر سرایت کر کے اس جگہ کو بھرنے کی کوشش کرتا ہے۔تو بدیوں کا ہٹنا اپنی ذات میں کوئی حقیقت نہیں رکھتا۔بدیوں کا ہٹنا صرف یہ معنی رکھتا ہے کہ کسی اور کے لئے جگہ خالی کی جارہی ہے۔جس طرح کوئی معزز انسان کسی مجلس میں آئے تو بیٹھے ہوئے لوگ سرک کر اس کے لئے جگہ بنانے لگتے ہیں۔یہی نقشہ قرآن کریم نے تو بہ کا کھینچا ہے کہ محض گناہوں کو دور کرنے کی خاطر نہیں بلکہ نیکیوں کو جگہ دینے کے لئے دور کرو اور یہی مضمون حسنة اور سيئة کے تقابل میں جگہ جگہ پیش کیا گیا ہے۔تو فرمایا تو بہ تو وہی تو بہ ہے جس کے بعد عمل صَالِحًا اس کی پیروی میں چلے آئیں اور تمہارے دل کے خلاؤں کو بھر دیں اور تمہارے اعمال کے خلاؤں کو بھر دیں۔فَإِنَّهُ يَتُوبُ إلَى اللهِ مَتَابًا یہی وہ شخص ہے حقیقت میں جو اللہ کی طرف سچی توبہ کے ساتھ رجوع کرنے والا ہے۔وَالَّذِينَ لَا يَشْهَدُونَ الزَّوْرَ وَ إِذَا مَرُّوا بِاللَّغْوِ مَرُّوا كِرَا ما وہ لوگ جو جھوٹ کی گواہی نہیں دیتے یا جھوٹی گواہی نہیں دیتے۔یہ اس کا عام ترجمہ ہے جو اولین ترجمہ شمار ہوتا ہے لیکن اس میں یہ بات بڑی شدت کے ساتھ شامل پائی جاتی ہے کہ وہ کسی قیمت پر بھی جھوٹ نہیں بولتے۔جھوٹی گواہی دینا بعد کی بات ہے جس شخص کو ایسا ماحول جس میں ہر طرف سے دباؤ ہوں جھوٹی گواہی دینے پر مجبور نہ کر سکے۔ایسا شخص لازماً اپنی عام زندگی میں بہت ہی سچا انسان ہوتا ہے اور