خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 335
خطبات طاہر جلد ۹ 335 خطبه جمعه ۱۵ جون ۱۹۹۰ء اس نے تبلیغ کی کئی لوگ جو تاجروں میں سے تھے ایمان لائے وہ تجارت کے لئے اس علاقہ میں آئے اور ان کے ذریعہ سے ہم لوگوں کو حال معلوم ہوا اور ہم ایمان لے آئے اور اس طرح جماعت بڑھنے لگی 66 یہ جو مضمون ہے یہ اس خط کی بھی یاد دلاتا ہے جو شملے کے رہنے والے ہندوستانی حکومت کے ایک غیر احمدی افسر نے ایک احمدی کے نام لکھا تھا جس میں اس نے ذکر کیا تھا کہ میں حکومت کے سفیر کے طور پر ایران وغیرہ کے مختلف علاقوں میں پھرتا رہا ہوں اور وہاں میرے علم میں یہ بات آئی کہ ایران کی وساطت سے بعض روسی بھی احمدی ہوئے ہیں اور ایک روسی جو جہاز میں کپتان تھا۔ اس سے بھی ان کی ملاقات ہوئی اور اس نے بڑے فخر کے ساتھ سعادت کے رنگ میں تسلیم کیا کہ ہاں میں احمدی ہوں ، تو یہ جو مختلف قسم کے سارے واقعات ہیں یہ ایک ہی طرف انگلیاں اٹھا رہے ہیں کہ خدا تعالیٰ کے فضل سے نہ انسانی کوشش سے بلکہ خدا کی اس تقدیر کے نتیجے میں جو لکھی گئی ہے کہ روس میں ریت کے ذروں کی طرح حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو ماننے والے مسلمان پیدا ہوں گے، یہ سامان خود بخود ہونے شروع ہو چکے تھے۔ د یہ حالات فتح محمد صاحب مرحوم نے لکھ کر بھیجے ۔ چونکہ عرصہ زیادہ ہو گیا ہے۔ اب اچھی طرح یاد نہیں رہا کہ واقعات اسی ترتیب سے ہیں یا نہیں ۔ لیکن خلاصہ ان واقعات کا یہی ہے گو ممکن ہے کہ بوجہ مدت گزر جانے کے واقعات آگے پیچھے بیان ہو گئے ہوں ۔ جس وقت یہ خط مجھے ملا میری خوشی کی انتہا نہ رہی اور میں نے سمجھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی پیشگوئی کہ بخارا کے امیر کی کمان آپ کے ہاتھ میں آگئی ہے۔ اسی رنگ میں پوری ہو رہی ہے اور میں نے چاہا کہ اس جماعت کی مزید تحقیق کے لئے فتح محمد صاحب کو لکھا جائے کہ اتنے میں ان کے رشتہ داروں کی طرف سے بھی مجھے اطلاع ملی کہ سرکاری تار کے ذریعہ ان کو اطلاع ملی ہے کہ فتح محمد صاحب میدان جنگ میں گولی لگنے سے فوت ہو گئے ہیں۔ اس خبر نے تمام امید پر پانی پھیر دیا اور سر دست اس ارادہ کو ملتوی کرنا پڑا مگر یہ خواہش میرے دل میں بڑے زور سے