خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 325 of 845

خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 325

خطبات طاہر جلد ۹ 325 خطبہ جمعہ ۸/جون ۱۹۹۰ء باہم سمجھوتے ہوں، اعتمادات بڑھیں اور نیوکلئیر Weapons میں کمی آجائے۔غرضیکہ ظاہری طریقوں سے وہ امن ڈھونڈنے کی کوشش کر رہے ہیں یہ بالکل ناممکن ہے۔امن کا تعلق دل کی کیفیت سے ہے اور دل کے رجحان سے ہے اگر دنیا امن والوں سے بھر جائے جن کو امن نصیب ہے تو لا زمانی نوع انسان کو امن نصیب ہوگا اور اگر دنیا بے چین دلوں سے بھری ہوئی ہو تو کوئی سیاسی معاہدات بھی بنی نوع انسان کو امن نہیں عطا کر سکتے۔پس آپ یا درکھیں کہ آپ کے ساتھ دنیا کا امن وابستہ ہے یہ کوئی فرضی باتیں نہیں ہیں۔میں کوئی محض خیال آرائی کی باتیں نہیں کر رہا۔میں ایسی ٹھوس حقیقتیں آپ کے سامنے رکھ رہا ہوں کہ جن حقیقتوں کے متعلق شبے کی کوئی گنجائش نہیں، کوئی وہم کی گنجائش نہیں۔سپردگی کے بغیر یعنی تقوی کے ساتھ خدا کے سپرد ہونے کے بغیر بنی نوع انسان میں سے کسی کو امن نصیب نہیں ہوسکتا اور جب تک بنی نوع انسان کو ایسے صاحب امن نصیب نہ ہو جائیں ، ان کو بنی نوع انسان کے امن کی کوئی ضمانت نہیں دی جاسکتی۔پس حقیقی امن جماعت احمدیہ کے ایسے مخلصین سے وابستہ ہے جن سے ان کا ماحول امن میں آجائے۔اگر ایک ایسا احمدی ہو جس سے اس کا ماحول امن میں نہ ہو تو دنیا اس کو کہے یا نہ کہے اس کا دل یہ گواہی دے سکتا ہے کہ تم مسلمان نہیں ہو۔کیونکہ انسان اپنی ذات کو تو اندر سے دیکھ رہا ہوتا ہے اس لئے انسان کی عزت کی حفاظت کیلئے خدا تعالیٰ نے غیروں کی زبانوں سے تو اس کو محفوظ کر دیا لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ آپ اپنے نفس کی زبان سے بھی اپنے آپ کو محفوظ رکھیں آپ کے اندر اور آپ کے ضمیر کی آواز جتنا آپ پر ظلم کرے گی اتنا ہی آپ پر رحم کر رہی ہوگی۔اس لئے اپنے وجود کو حقیقت سے پرکھیں اور بہت ہی آسان اور سیدھی اور صاف پہچان ہے کہ اگر آپ سے آپ کی بیوی امن میں ہے اگر آپ سے آپ کے بچے امن میں ہیں، اگر آپ سے آپ کے عزیز اور رشتے دار امن میں ہیں۔اگر آپ سے آپ کے دوست امن میں ہیں اگر آپ سے آپ کا معاشرہ امن میں ہے تو یقین کے ساتھ آپ یہ کہہ سکتے ہیں کہ سپردگی کی علامتیں مجھ میں ظاہر ہو رہی ہیں۔میں خدا کا بنتا چلا جارہا ہوں اور اس کے نتیجے میں طبعا جو ظہور میں آنا چاہئے تھا میری ذات میں ظہور میں آ رہا ہے اور پھر کامل یقین کے ساتھ اس راہ پر آپ آگے بڑھ سکتے ہیں اور آپ کے وجود کے ساتھ آپ کے ماحول کا ہی نہیں بلکہ رفتہ رفتہ تمام دنیا کا امن وابستہ ہوتا چلا جائے