خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 28
خطبات طاہر جلد ۹ 28 88 خطبہ جمعہ ۱۲ جنوری ۱۹۹۰ء ایک رؤیا کا میں نے ابھی ذکر کیا تھا۔اس ضمن میں میں سمجھتا ہوں ایک دو اور رویا ہیں جن سے مجھے آپ کو مطلع کرنا چاہئے۔کچھ عرصہ پہلے کی ہیں لیکن چونکہ خطبات جمعہ کا مضمون ایسا تھا کہ ان کے اندروہ کہیں Fit نہیں بیٹھتے تھے یعنی ان کا براہ راست تعلق نہیں بن رہا تھا اس لئے آہستہ آہستہ وہ نظر سے اوجھل ہو گئے۔اب چونکہ یہ مضمون چل پڑا ہے اس لئے میں سمجھتا ہوں کہ ان مبشر خوابوں سے ، رویا سے جماعت کو مطلع کرنا چاہئے۔ایک رویا میں میں نے دیکھا کہ جیسے سیاحوں کی بس ہوتی ہے ویسی ہی کسی بس میں میں اور میرے کچھ ساتھی سفر کرتے ہوئے ایک دریا کو عبور کرنے والے ہیں۔اب یہ جو بس کی حالت کا سفر ہے یہ مجھے یاد نہیں لیکن یوں معلوم ہوتا ہے جیسے وہ بس پل کے پاس آکر نیچے اس کے دامن میں رک گئی ہے۔اور کوئی وجہ ہے کہ وہ بس خود آگے نہیں بڑھ سکتی تو جیسے ایسے موقع پر مسافر اتر کر چہل قدمی شروع کر دیتے ہیں اس طرح اس بس سے میں اترا ہوں اور کچھ اور بھی مسافر اترے ہیں لیکن میرے ذہن میں اس وقت اور کوئی نہیں آرہا۔مگر یہ اچھی طرح یاد ہے کہ مبارک مصلح الدین صاحب ( جو ہمارے واقف زندگی تحریک جدید کے کارکن ہیں) وہ ساتھ ہیں اور جیسے انتظار میں اور کوئی شغل نہ ہو تو انسان کہتا ہے کہ چلیں اب نہا ہی لیتے ہیں۔میں اور وہ ہم دونوں دریا میں چھلانگ لگا دیتے ہیں۔میرے ذہن میں اس وقت یہ خیال ہے کہ ہم تھوڑا سا تیر کے واپس آجائیں گے لیکن مبارک مصلح الدین مجھ سے تھوڑے سے دو ہاتھ آگے ہیں اور وہ مجھے کہتے ہیں کہ چلیں اب اسی طرح ہی دریا پار کرتے ہیں تو میرے ذہن میں یہ خیال ہے کہ دریا تو بھر پور بہہ رہا ہے۔جیسے دریائے سندھ طغیانی کے وقت بہا کرتا ہے اگر چہ کناروں سے چھلکا نہیں لیکن لبالب ہے اور بہت ہی بھر پور اور قوت کے ساتھ بہہ رہا ہے۔تو میں یہ سمجھتا ہوں کہ پتا نہیں ہم یہ کر بھی سکیں گے کہ نہیں؟ تو مبارک مصلح الدین کہتے ہیں کہ نہیں ہم کر سکتے ہیں اور میں کہتا ہوں کہ ٹھیک ہے پھر چلتے ہیں لیکن مجھے حیرت ہوتی ہے کہ اگر چہ میں کوئی ایسا تیراک نہیں مگر اس وقت تیرا کی کی غیر معمولی طاقت پیدا ہوتی ہے اور چند ہاتھوں میں بڑے بڑے فاصلے طے ہونے لگتے ہیں یہاں تک کہ جب میں مڑ کے دیکھتا ہوں تو وہ پچھلا کنارہ بہت دور رہ جاتا ہے اور پھر دو چار ہاتھ لگانے سے ہی وہ باقی دریا بھی عبور ہو جاتا ہے اور دوسری طرف ہم کنارے لگتے ہیں اور تعجب کی بات یہ ہے کہ اگر چہ مبارک مصلح الدین مجھے رویا میں اپنے آگے دکھائی دیتے ہیں مگر جب کنارے لگتا ہوں تو پہلے میں