خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 324
خطبات طاہر جلد ۹ 324 خطبه جمعه ۱۸ جون ۱۹۹۰ء اپنے اندر وہ جذبہ پیدا کر دو کہ تم بے اختیار کر دیا کرو تمہارے اندر ایک غالب قوت پیدا ہو جائے ، لازماً کوئی دوسرا وجود تمہاری طرف کھنچتا ہوا چلا جائے۔ غالب بھی غالبا اور ایک رنگ میں یہی کہنا چاہتا تھا لیکن وہ دنیا کے مضمون کو بیان کر رہا ہے، میں دین کے مضمون کو بیان کر رہا ہوں تمثیل کے طور پر بعض دفعہ دنیاوی اشعار کو بھی سامنے رکھنا پڑتا ہے تا کہ بنی نوع انسان زیادہ وضاحت سے سمجھ جائیں مگر امر واقعہ یہ ہے کہ اسلام در حقیقت تقویٰ کی اس حالت کا نام ہے جو بنی نوع انسان کو دکھائی بھی دیتی ہے۔ جو کچھ اسلام کی شکل میں دکھائی دیتا ہے ضروری نہیں کہ وہ تقویٰ کے نتیجے میں ہو لیکن اگر دکھائی دینے والا اسلام تقویٰ کے نتیجے میں پیدا ہوا ہو تو اس اسلام میں ایک نور پیدا ہو جاتا ہے ۔اس اسلام میں ایک غیر معمولی کشش پیدا ہو جاتی ہے اور وہ بنی نوع انسان کو بڑی قوت کے ساتھ اور غالب قوت کے ساتھ کھینچنے لگتا ہے۔ پس دنیا کے اس ماحول کو اگر آپ نے تبدیل کرنا ہے تو محض زبانی پیغامات سے یہ دنیا تبدیل نہیں ہوگی اور جیسا کہ میں نے آپ کو قدم بقدم ساتھ چل کر سمجھایا ہے۔ اسی طرح اسی طریق پر اول اور دوئم اور سوئم قدم اٹھانے پڑیں گے۔ یا درکھیں خدا کے سپرد ہونا حقیقت میں تقویٰ چاہتا ہے۔ تقوی سچا ہو تو پھر سپردگی سچی ہوتی ہے اور جب تک انسان اپنے آپ کو خدا کے سپرد نہ کرے وہ امن میں نہیں آتا۔ ہر پہلو سے آپ اس مضمون پر غور کر کے دیکھ لیں اس کے سوا چارہ ہی کوئی نہیں اور کوئی رستہ ہی نہیں بنتا۔ خدا کے سپرد کرنے کا ایک یہ بھی مفہوم ہے کہ اس کی حفاظت میں آگیا۔ جب اپنے آپ کو اس کے حضور پیش کر دیا تو چاروں طرف سے خدا کی فصیل ہے جو آپ کو گھیر لیتی ہے اور پھر ہر خوف سے آپ امن میں آجاتے ہیں اور ذہنی طور پر جو سپردگی کا مزا ہے ویسا اور کوئی مزا نہیں ۔ ایک انسان جس نے محبت کی ہو اور اس کو یہ پتا ہو کہ پیار کے نتیجے میں جب انسان اس منزل پر پہنچتا ہے کہ بس اب میں تیرا ہو گیا تو اس کیفیت سے جو لذت تواس پیدا ہوتی ہے ویسی دنیا میں اور کوئی لذت نہیں اور وہی لذت ہے جو گہر اسکون پیدا کرتی ہے۔ پس اسلام ہی کے نتیجے میں ظاہری حفاظت بھی ہوگی اور اسلام ہی کے نتیجے میں اندرونی تسکین بھی نصیب ہوگی یعنی ظاہری امن بھی ملے گا اور اندرونی امن بھی ملے گا اور جب آپ اس امن کو حاصل کر لیتے ہیں تو پھر آپ دنیا کو امن دینے والے بن جائیں گے۔ آج دنیا عجیب عجیب را ہوں سے امن کی تلاش کر رہی ہے۔ S۔A۔L۔T۔Treaties ہو رہے ہیں۔ یہ کوششیں ہو رہی ہیں کہ