خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 317
خطبات طاہر جلد ۹ 317 خطبہ جمعہ ۸/ جون ۱۹۹۰ء کرتے تھے، ان کے متعلق اگر خدا تعالیٰ یہ خبرنہ دیتا تو کسی کو کچھ پتا نہیں لگ سکتا تھا کہ ان کا اسلام نظر آنے والا اسلام ہے اور اس اسلام کے پیچھے تقویٰ نہیں ہے۔پس جو کچھ دکھائی دیتا ہے اس کے متعلق بھی ہم کچھ نہیں کہ سکتے۔تو پھر جو کچھ دکھائی نہیں دیتا اس کے متعلق ہم کیسے دعاوی کر سکتے ہیں۔اسی لئے قرآن کریم نے خدا تعالیٰ کے متعلق فرمایا: عَلِمُ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ (الحشر :۲۳) بعض لوگ جو سرسری نظر سے اس آیت کو پڑھتے ہیں ان کو یہ تو سمجھ آجاتی ہے کہ عالم الغیب کیوں کہا کیونکہ پردہ غیب کی خبریں صرف خدا کو معلوم ہیں شہادہ کی سمجھ نہیں آتی وہ کہتے ہیں شہادہ تو ہم بھی ہیں۔جو دکھائی دیتا ہے تو خدا تعالیٰ نے کیوں اس شان کے ساتھ اپنی یہ صفت بیان کی کہ میں علم الغیب ہوں۔علمُ الشَّهَادَةِ بھی ہوں۔تو درحقیقت یہ انسان کا وہم ہے محض ایک گمان ہے کہ جو کچھ وہ دیکھتا ہے اس کے متعلق بھی قطعی طور پر اور یقینی طور پر وہ کہہ سکتا ہے کہ جو میں نے دیکھا ہے بعینہ وہی حقیقت ہے۔یہ مضمون جب بعض صوفیاء کو معلوم ہوا تو وہ اتنے پریشان ہوئے کہ ہر بات سے ان کا اعتماد ہی اٹھ گیا یہاں تک کہ ساری کائنات کو واہمہ کہنے لگے۔وہ بھی ایک انتہاء تک پہنچے اور حقیقت سے بے خبر ہو گئے مگر معلوم ہوتا ہے کہ اس مضمون پر نظر ان کی ضرور پڑی ہے۔جب انہوں نے علِمُ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ پر نظر ڈالی تو پھر آہستہ آہستہ نفس پر غور کرنے سے ان کو معلوم ہوا کہ جو کچھ ہم دیکھتے ہیں وہ حقیقت تو نہیں ہو سکتی حالانکہ بعض حقیقتیں بھی ہوتی ہیں اور بعض دفعہ حقیقت نہیں بھی ہوتی۔جو شخص سچا ہو جس کا اندر اور باہر ایک ہو اس کو جب آپ دیکھتے ہیں تو حقیقت کو دیکھ رہے ہوتے ہیں چنانچہ حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ ایک زندہ حقیقت تھے۔اس لئے صوفیاء کا اس وہم میں مبتلا ہو جانا کہ گویا سب کچھ واہمہ ہی واہمہ ہے اور حقیقت ہے ہی کوئی نہیں یہ درست بات نہیں تھی۔ہاں یہ درست ہے کہ انسان جب تک خدا کی گواہی نہ ہو اور آنحضرت ﷺ کے متعلق خدا کی گواہی ہے، اپنے زعم میں جو کچھ دیکھتا ہے اس کے متعلق یقینی طور پر نہیں کہہ سکتا کہ یہ وہی حقیقت ہے جو ہمیں دکھائی دیتی ہے۔چنانچہ یہ صوفیاء جن کا میں نے ذکر کیا ہے، ان کے وہم اتنے بڑھے کہ ایک زمانہ میں ہندوستان میں ان کی اور دوسرے علماء کی اور دوسرے صوفیاء کی بڑی بڑی بحثیں چلا کرتی تھیں اور بعض دفعہ بادشاہوں نے اپنے دربار میں ایسے مناظرے کروائے۔