خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 27 of 845

خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 27

خطبات طاہر جلد ۹ 27 27 خطبہ جمعہ ۱۲ جنوری ۱۹۹۰ء آج کل جماعت کو تمام دنیا میں جو ضرورتیں درپیش ہیں اور نئے نئے رستے ترقیات کے کھل رہے ہیں، اس کے ساتھ ساتھ نئے خطرات بھی پیدا ہور ہے ہیں۔ایک بڑی عظیم عالمی جد و جہد کی کیفیت ہے ، جس میں جماعت اس نئی صدی میں داخل ہوئی ہے اور روز بروز نئے میدان کھلتے رہیں گے اور نئے میدانوں میں ہمارے قدم آگے بڑھتے رہیں گے اس لئے ابھی سے دعاؤں کی عادت خود بھی ڈالیں اور اپنے بچوں کو بھی دعاؤں کی اہمیت سمجھاتے رہیں اور دعائیں کرنے کے سلیقے سکھائیں۔اگلی نسل کو دعا پر قائم کرنا بہت ہی ضروری ہے ورنہ ہمارا اگلی نسلوں کے ساتھ سب سے زیادہ اہم پیوند کٹ جائے گا۔سب سے زیادہ اہم پیوند جو ہم اپنی اگلی نسلوں کے ساتھ قائم کر سکتے ہیں وہ یہی دعا کرنے کا پیوند ہے۔وہ پیوند جو دراصل تو خدا سے لگتا ہے لیکن ہمارا آپس کا تعلق دعا کرنے والی نسل کے طور پر قائم رہنا چاہئے اور ہماری ہر اگلی نسل اسی طرح دعا گو ہونی چاہئے۔اسی طرح دعا پر تو کل رکھنے والی اور یقین رکھنے والی ہونی چاہئے جیسے ہمیں ہونا چاہئے یا ہماری پہلی نسلیں تھیں۔اس لئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا جو فیض ہے، اس کا خلاصہ کبھی بھی ہماری نظر سے اوجھل نہیں ہونا چاہئے۔آپ کے تمام فیوض کا مخص، آپ کے سارے فیض کا منبع اور روح اور اس کا خلاصہ یہی ہے کہ آپ نے خود بھی دعاؤں کے گر سیکھے اور دعاؤں پر انحصار کیا اور جماعت احمدیہ کو بھی دعاؤں کے ذریعے ایک زندہ خدا کے ساتھ ایک ابدی زندہ تعلق رکھنے کا سلیقہ سکھا دیا۔پس یہ اگلی نسل کا ہم پر حق ہے جس طرح ہم نے پچھلی نسلوں کا پھل کھایا اور ان سے یہ تربیت حاصل کی اور ان کے اس فیض کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ کے ساتھ ہمارا ایک حیرت انگیز اور عظیم الشان رشتہ قائم ہو گیا۔اسی طرح اگلی نسلوں کا ہم پر بھی حق ہے۔اپنے بچوں پر رحم کریں اور ان کو آغاز ہی سے دعائیں کرنی سکھا ئیں اور ان سے دعائیں کروائیں اور پھر دیکھیں کہ جب دعا کا پھل ان کو ملے گا تو ان کی کیفیت کیسے بدل جائے گی۔غیر دنیا میں رہتے ہوئے معصوم بچوں کی حفاظت کا اس سے بہتر اور کوئی ذریعہ نہیں۔تربیت کی آپ ہزار ترکیبیں کریں ان کو راہ راست پر رکھنے کے ہزار پاپڑ بیلیں مگر اس جیسا مؤثر اور کوئی ذریعہ نہیں کہ آپ ان کو دعا گو بچے بنادیں خدا تعالیٰ سے ان کا ایک ذاتی تعلق قائم کروا دیں اور بچپن ہی سے وہ اپنی دعاؤں کا پھل کھانے لگ جائیں۔پس یہ ایک دوسری نصیحت ہے کہ جہاں ہم جماعت کے لئے بھی دعائیں کرتے ہیں اور اپنے لئے بھی وہاں ہم اپنی آنے والی نسلوں کو بھی دعا کونسلیں بنائیں۔