خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 313 of 845

خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 313

خطبات طاہر جلد ۹ 313 خطبه جمعه ۱۸ جون ۱۹۹۰ء ایمان داخل نہیں ہوا ۔ یہ موقع بتاتا ہے کہ کسی بندے کو خود اختیار نہیں کہ وہ دلوں کے متعلق فیصلہ کر سکے الله کہ ایمان داخل نہیں ہوا ہے یا نہیں ہوا۔ چنانچہ جب اس واقعہ کی خبر آنحضرت ﷺ کی خدمت میں پہنچی اور یہی قتل کرنے والے تھے جنہوں نے خود حضور اکرم ﷺ سے اس بات کا ذکر کیا ۔ وہ بیان صلى الله عليسة کرتے ہیں کہ آنحضور ﷺ کا چہرہ غصے سے تمتما اٹھا اور دو طرح کے آپ کے جوابات روایات میں صلى الله مذکور ہیں۔ ایک یہ کہ آپ بار بار یہ فرماتے رہے اور فرماتے چلے گئے کہ تم نے کیوں نہیں اس کا دل پھاڑ کر دیکھ لیا تھا کہ وہ سچا تھا یا جھوٹا تھا۔ (مسند احمد بن حنبل کتاب اول ۱۹۰۹۰) اس کے دل میں ایمان تھا یا نہیں تھا۔ اس مضمون سے واضح ہوتا ہے کہ آنحضرت اللہ یہ بتا رہے ہیں کہ کسی انسان کے بس میں نہیں ہے کہ دل کے حالات معلوم کر سکے۔ دل پھاڑ کر دیکھنے کا یہ مطلب نہیں کہ اسی وقت وہ چھرے سے اس کا دل چیرتا اور دیکھتا ، دیکھنے والے کو تو کچھ نظر نہ آتا۔ آنحضور ﷺ نے اپنی فصاحت و بلاغت میں اس رنگ میں اس مضمون کو ظاہر کیا گویا یہ فرما رہے تھے کہ اگر تم دل پھاڑ کے بھی دیکھتے تب بھی تمہیں کچھ پتا نہ چلتا تم نے ظاہر سے کیسے اندازہ کر لیا۔ پس ایمان ایک ایسی مخفی حالت کا نام ہے جس کی پہچان سوائے خدا کے کسی کے لئے ممکن نہیں کوئی نہیں جو یہ کہہ سکے یا جان سکے کہ کسی دعویدار کے دل میں ایمان ہے یا نہیں ہے۔ اسلام ایک ایسی چیز ہے جس کی کچھ ظاہری علامتیں ملتی ہیں اور اس پہلو سے ممکن ہے کہ ایک شخص مومن نہ ہو لیکن وہ اپنے آپ کو مسلمان کہے اور کچھ اسلامی عادات اختیار کرلے۔ ایسے شخص کے متعلق خدا تعالیٰ نے جہاں یہ خبر دی کہ بعض ایسے اشخاص ہیں جن کے دلوں میں ایمان نے جھانکا بھی نہیں یعنی دل میں ایمان داخل نہیں ہوا ان کو بھی تم مسلمان کہلانے سے باز نہیں رکھ سکتے ۔ تمہیں کوئی حق نہیں کہ یہ کہو کہ چونکہ خدا تعالیٰ نے مجھے خبر دی ہے کہ تم مومن نہیں ہو ، اس لئے بغیر ایمان کے اسلام کی کوئی حیثیت نہیں ۔ ایمان کے قیام کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ۔ پس میں تمہیں مسلمان کہلانے کی بھی اجازت نہیں دوں گا بلکہ فرمایا کہ میں تمہیں خبر دیتا ہوں کہ یہ مومن نہیں ۔ ایمان ان لوگوں کے دل میں داخل بھی نہیں ہوا لیکن ساتھ ہی میں نصیحت کرتا ہوں کہ ان کو مسلمان کہلانے کی اجازت دو اور کہہ دو: قُولُوا أَسْلَمْنَا کہ تم بے شک یہ کہتے رہو کہ ہم مسلمان ہو گئے ، ہم مسلمان ہو گئے ۔