خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 308 of 845

خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 308

خطبات طاہر جلد ۹ 308 خطبہ جمعہ ارجون ۱۹۹۰ء دروازوں سے باہر بھی چلے جاتے ہیں اور انہیں دوام نصیب نہیں ہوتا لیکن نیک آدمی اگر ایک نیک آدمی پیدا کر دے تو اس کا براہ راست خدا سے تعلق پیدا ہو جاتا ہے اور نیک آدمی کو پھر قرار ملتا ہے۔اس کو دوام نصیب ہوتا ہے۔چنانچہ قرآن کریم نے کلمہ طیبہ اور کلمہ خبیثہ میں ان دونوں باتوں کا موازنہ فرما دیا۔فرمایا کلمہ طیبہ وہ ہے جس کی جڑیں پیوستہ ہو جاتی ہیں اور وہ رزق خدا سے اور آسمان سے حاصل کرتا ہے۔اس کی شاخیں آسمان میں پھیلتی ہیں اور اللہ تعالیٰ کے ساتھ تعلق کی برکت سے ہر حال میں اس کو پھل لگتے رہتے ہیں۔تو جو انسان خدا کو حاصل کرنے کے بعد اس سے تعلق جوڑے اور باشمر بن جائے اس کے اکھڑنے یا اس کے بدکنے یا اس کے بھٹکتے پھرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔پس ایسا شخص جو خود باخدا ہو اور نیکی کی اہمیت کو نہ صرف یہ کہ ذہنی طور پر سمجھتا ہو بلکہ اپنے دل کو نیکی کی راہ پر ڈال چکا ہو، خدا کے حضور اپنا سر تسلیم خم کر چکا ہو، اس شخص کے بنائے ہوئے احمدیوں میں بھی ویسے اثرات سرایت کر جاتے ہیں ویسی خصوصیات پیدا ہو جاتی ہیں۔حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ یہ فرمایا کرتے تھے کہ میں نئے احمدی کو دیکھ کر اکثر یہ صحیح اندازہ لگا لیتا ہوں کہ کس کی تبلیغ سے ہوا ہو گا۔فرماتے تھے کہ اگر کوئی مبلغ کنجوس ہو اور چندوں میں کمزور ہوتو اس کے ذریعے بنے ہوئے احمدی بھی کنجوس اور چندوں میں کمزور ہی نکلتے ہیں، جو شخص تبلیغ کا شوق رکھتا ہو لیکن نمازوں میں کمزور ہو، اس کے بنائے ہوئے احمدی بھی تبلیغ کا جوش تو رکھتے ہیں لیکن نمازوں میں کمزور ہوتے ہیں اس لئے کہ ہر شخص اپنی مہر دوسرے پر ثبت کر رہا ہوتا ہے۔اسی لئے حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ کا سب سے بالا مقام نبیوں کی مہر کا ہے۔ایسی مہر جو نبوت پیدا کرتی ہے۔اس مہر کے ایسے عظیم نقوش ہیں کہ نبوت کی طرح تقویٰ کے نقوش عطا کرتی ہے۔پس یہ تو آپ کی مہر کا نقش آپ کا چہرہ دکھائے گا۔آپ جب ایک نیا احمدی پیدا کرتے ہیں تو دراصل آپ کی مہر نے ایک نقش پیدا کر دیا ہے اس نقش میں آپ کے چہرے دکھائی دیں گے اور اگر آپ کے چہرے میں خدا دکھائی دیتا ہے ،ا گر آپ کے چہرے کو خدا کا چہرہ قرار دیا جا سکتا ہے، تو جتنے نقوش آپ بناتے چلے جائیں گے، ہر نقش خدا کی طرف اشارہ کر رہا ہوگا۔ہر نقش کے چہرے میں خدا کے وجود دکھائی دینے لگیں گے اور اس طرح ایک ایسے استحکام کے ساتھ جماعت پھیلے گی کہ ہر قدم جواٹھے گا وہ مستحکم ہوتا چلا جائے گا۔پس اس دنیا میں جبکہ خدا کی تلاش تو ہے لیکن لوگوں کو علم نہیں کہ کیسے حاصل کیا جائے ، جب