خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 26 of 845

خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 26

خطبات طاہر جلد ۹ 26 خطبه جمعه ۱۲ جنوری ۱۹۹۰ء تابع ( یعنی وحی بعض دفعہ خفی بھی ہوتی ہے ضروری نہیں کہ الہام کی شکل میں لفظوں میں وہ ظاہر ہو۔ مگر خدا تعالیٰ کی طرف سے چلنے والی تحریکات کی روشنی میں ) ان کے دل جماعت کی مدد کے لئے متوجہ ہوں گے۔ اس رویا کے بعد میں خصوصیت سے جماعت کو دعاؤں کی طرف متوجہ کرتا ہوں اور یاد دلاتا ہوں کہ جب بھی وہ اپنے متعلق یا اپنے دوستوں کے متعلق یا جماعت کے متعلق کوئی فکر والی باتیں سنیں یا کوئی تو ہمات ان ۔ ہمات ان کے دلوں کو گھیر لیں تو اپنے نفس کا یہ پہلا محاسبہ کیا کریں کہ ان کا خیال کس طرف گیا تھا۔ مدد ڈھونڈنے کے لئے ان کو کوئی انسان یاد آیا تھا کوئی دنیاوی ذریعہ اختیار کرنے کی طرف توجہ مائل ہوئی تھی یا سب سے پہلے توجہ خدا کی طرف گئی تھی۔ موحد بندے کی شان یہ ہے کہ توجہ کا اولین مرکز خدا ہوتا ہے ورنہ یہ دنیا ایسی ہے کہ جس میں باتیں ایسی مل جل جاتی ہیں کہ تو حید اور شرک کی تفریق آسان نہیں رہتی ۔ خدا کے مومن بندے دعا ئیں بھی کرتے ہیں اور اسباب کو بھی اختیار کرتے ہیں اور بعض غیر بھی جو تو حید کے اعلیٰ مقام پر فائز نہیں ہوتے وہ اسباب کو بھی اختیار کر لیتے ہیں اور دعاؤں کی طرف بھی متوجہ ہو جاتے ہیں لیکن ان دونوں کے درمیان ایک فرق ہے اور وہ فرق اولیت کا ہے۔ مومن کا اول سہارا خدا تعالیٰ کی ذار ارا خدا تعالیٰ کی ذات ہے اور اس نے اور اس تعلق کے قیام کے لئے جو بندے اور خدا کے درمیان سہارے کی شکل میں ظاہر ہوا کرتا ہے دعا ذریعہ بنتی ہے۔ یعنی سہارا تو خدا تعالیٰ ہر ایک کا ہے ہی لیکن اس خصوصی مدد کے لئے جو انسان کسی خاص مشکل کے وقت محسوس کرتا ہے کہ مجھے اس کی ضرورت ہے اور خدا سے مجھے ملنی چاہئے اس مدد کے لئے دعا ذریعہ بنا کرتی ہے۔ پس جب بھی آپ مدد چاہتے ہیں تو مدد کے لئے پیغام بھیجا کرتے ہیں۔ جب بھی آپ مدد مانگتے ہیں تو مدد کے لئے آواز دیا کرتے ہیں تو پہلی آواز خدا کی جانب اٹھنی چاہئے پہلا پیغام خدا کو بھیجا جانا چاہئے ۔ اگر یہ ہے تو پھر آپ موحد بندے ہیں ۔ پھر آپ اسباب کو اختیار کریں تو یہ شرک نہیں ہے بلکہ یہ بھی ایک عجز کا اظہار ہے اور خدا کی اس مالکیت کی عبادت کرنا ہے جو ہر چیز پر حاوی ہے ۔ پس اس پہلو سے آپ کا ایمان یقیناً خالص بن جاتا ہے۔ آپ کی توحید کے اوپر ایک گواہی ٹھہرتی ہے جو ہر ضرورت کے وقت آپ کے دل سے اٹھ رہی ہوتی ہے اور خدا کے بعد سب سے بڑا گواہ انسان کا اپنا نفس ہی ہے۔ پس اس پہلو سے اپنے نفس کا محاسبہ کرتے ہوئے دعاؤں پر انحصار بڑھا ئیں اور سب سے زیادہ تو کل دعا پر ہی رکھیں اور دعا کے ذریعے اولین رابطہ اپنے خدا سے کرنے کی عادت ڈالیں۔ ا