خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 26
خطبات طاہر جلد ۹ 26 26 خطبہ جمعہ ۱۲ / جنوری ۱۹۹۰ء تابع ( یعنی وحی بعض دفعہ نفی بھی ہوتی ہے ضروری نہیں کہ الہام کی شکل میں لفظوں میں وہ ظاہر ہو۔مگر خدا تعالیٰ کی طرف سے چلنے والی تحریکات کی روشنی میں) ان کے دل جماعت کی مدد کے لئے متوجہ ہوں گے۔اس رؤیا کے بعد میں خصوصیت سے جماعت کو دعاؤں کی طرف متوجہ کرتا ہوں اور یاد دلاتا خود ہوں کہ جب بھی وہ اپنے متعلق یا اپنے دوستوں کے متعلق یا جماعت کے متعلق کوئی فکر والی باتیں سنیں یا کوئی تو ہمات ان کے دلوں کو گھیر لیں تو اپنے نفس کا یہ پہلا محاسبہ کیا کریں کہ ان کا خیال کس طرف گیا تھا۔مدد ڈھونڈنے کے لئے ان کو کوئی انسان یاد آیا تھا کوئی دنیاوی ذریعہ اختیار کرنے کی طرف توجہ مائل ہوئی تھی یا سب سے پہلے توجہ خدا کی طرف گئی تھی۔موحد بندے کی شان یہ ہے کہ توجہ کا اولین مرکز خدا ہوتا ہے ورنہ یہ دنیا ایسی ہے کہ جس میں باتیں ایسی مل جل جاتی ہیں کہ تو حید اور شرک کی تفریق آسان نہیں رہتی۔خدا کے مومن بندے دعائیں بھی کرتے ہیں اور اسباب کو بھی اختیار کرتے ہیں اور بعض غیر بھی جو تو حید کے اعلیٰ مقام پر فائز نہیں ہوتے وہ اسباب کو بھی اختیار کر لیتے ہیں اور دعاؤں کی طرف بھی متوجہ ہو جاتے ہیں لیکن ان دونوں کے درمیان ایک فرق ہے اور وہ فرق اولیت کا ہے۔مومن کا اول سہارا خدا تعالیٰ کی ذات ہے اور اس تعلق کے قیام کے لئے جو بندے اور خدا کے درمیان سہارے کی شکل میں ظاہر ہوا کرتا ہے دعا ذریعہ بنتی ہے۔یعنی سہارا تو خدا تعالیٰ ہر ایک کا ہے ہی لیکن اس خصوصی مدد کے لئے جو انسان کسی خاص مشکل کے وقت محسوس کرتا ہے کہ مجھے اس کی ضرورت ہے اور خدا سے مجھے ملنی چاہیئے اس مدد کے لئے دعا ذریعہ بنا کرتی ہے۔پس جب بھی آپ مدد چاہتے ہیں تو مدد کے لئے پیغام بھیجا کرتے ہیں۔جب بھی آپ مدد مانگتے ہیں تو مدد کے لئے آواز دیا کرتے ہیں تو پہلی آواز خدا کی جانب اٹھنی چاہئے پہلا پیغام خدا کو بھیجا جانا چاہئے۔اگر یہ ہے تو پھر آپ موحد بندے ہیں۔پھر آپ اسباب کو اختیار کریں تو یہ شرک نہیں ہے بلکہ یہ بھی ایک بجز کا اظہار ہے اور خدا کی اس مالکیت کی عبادت کرنا ہے جو ہر چیز پر حاوی ہے۔پس اس پہلو سے آپ کا ایمان یقیناً خالص بن جاتا ہے۔آپ کی توحید کے اوپر ایک گواہی ٹھہرتی ہے جو ہر ضرورت کے وقت آپ کے دل سے اٹھ رہی ہوتی ہے اور خدا کے بعد سب سے بڑا گواہ انسان کا اپنا نفس ہی ہے۔پس اس پہلو سے اپنے نفس کا محاسبہ کرتے ہوئے دعاؤں پر انحصار بڑھائیں اور سب سے زیادہ تو کل دعا پر ہی رکھیں اور دعا کے ذریعے اولین رابطہ اپنے خدا سے کرنے کی عادت ڈالیں۔