خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 304
خطبات طاہر جلد ۹ 304 خطبہ جمعہ ارجون ۱۹۹۰ء کیونکہ جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے، ان سب کے اندر روز افزوں پیاس کا احساس بڑھتا چلا جا رہا ہے۔پیاس تو صدیوں کی ہے، لیکن اس کا احساس کبھی اس تیزی کے ساتھ نہیں بڑھا تھا جتنا اس دور میں بڑھ رہا ہے۔ان کی نئی نسلیں محرومی کو اپنی آنکھوں کے سامنے دیکھ رہی ہیں۔اپنی تہذیب سے بددل ہو چکی ہیں، اپنے معاشرے سے بددل ہو چکی ہیں، اپنی Civilization سے اور ان تمام اقدار سے جن کو مغربی Civilization کہا جاتا تھا، آخر مایوس ہو چکی ہیں اور دن بدن یہ شعور بڑھتا چلا جا رہا ہے کہ ہمیں کچھ بھی حاصل نہیں ہوا اور اس تلاش میں کہ کچھ حاصل ہو جائے سرگردان کبھی کسی رخ پر اٹھ دوڑتی ہیں، کبھی کسی اور رخ پر اٹھ دوڑتی ہیں۔تلاش میں ہیں لیکن پتہ نہیں کہ کیا تلاش کر رہی ہیں اور کیسے حاصل کیا جاسکتا ہے۔ان کو تبلیغ کرنے کا صرف ایک ہی مؤثر اور ٹھوس اور کارآمد طریق ہے، باقی ساری باتیں منطق کے ایچ بیچ میں ان کے ذریعے آپ کو کچھ بھی حاصل نہیں ہوسکتا اور وہ خدا کی زندہ حقیقت کو ان کے سامنے پیش کرنا ہے۔ایک ہی ذریعہ ہے جس سے آپ ان کی اپنی ذات میں دلچسپی پیدا کر سکتے ہیں اور وہ ذریعہ ہے آپ کا اپنا وَجْهُ رَبَّكَ بننے کی کوشش کرنا۔ایسا وجود بننا جس میں خدا کے چہرے دکھائی دینے لگیں اور وہ ایک ایسی کشش ہے جو ہر دوسری چیز پر لازماً غالب آنے والی ہے۔ان کو یہ پیغام دینے کی ضرورت ہے۔لو تمہیں طور تسلی کا بتا یا ہم نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے جب یہ مصرعہ فرمایا تو یہ کوئی سوچی سمجھی بات کا نتیجہ نہیں تھا۔یہ ایک تجربے کے نتیجے میں خود بخود دل سے پھوٹنے والا مصرعہ ہے۔آؤ لوگو کہ یہیں نور خدا یاؤ گے لو تمہیں طور تسلی کا بتایا ہم نے جس شخص نے نور خدا کو نہ پایا ہو، اس کے منہ سے یہ مصرعہ نکل نہیں سکتا۔یہی طور تسلی کا اس وقت بھی تھا اور آج بھی ہے اور جس طرح حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے تسلی کا یہ طور بتا کر صاحب تسلی لوگ پیدا کر دیئے۔اپنے گردو پیش میں ان لوگوں کے حالات تبدیل کرنے شروع کر دیئے جو مختلف حالات میں آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے تھے۔ان کے تعلقات دنیا سے ٹوٹنے شروع ہوئے اور خدا تعالیٰ سے بنے شروع ہوئے ، یہاں تک کہ دیکھتے دیکھتے ان کی کایا پلٹ گئی اور وہ یہی پیغام لے کر پھر