خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 303 of 845

خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 303

خطبات طاہر جلد ۹ 303 خطبہ جمعہ ارجون ۱۹۹۰ء کی لذتوں کو قریب دیکھ رہا ہوتا ہے اور خدا تعالیٰ کی رضا کے چہرے کو دور ہٹا ہوا دیکھتا ہے اور مشکل سمجھتا ہے ، اس لئے وہ سنتا ہے اور دل میں جاگزیں کرنے کی بجائے اور اس بات پر غور کرنے کے بجائے اور اس سے فائدہ اٹھانے کی بجائے وہ سن کر آگے گزر جاتا ہے جیسے ان سنی کر دی گئی ہو۔پس جماعت احمدیہ کو یا د رکھنا چاہئے کہ ان کی تربیت کے لئے اور ان کی کامیاب زندگیوں کے لئے اس گر کو نہ صرف سمجھنا ضروری ہے بلکہ اس کو اپنا لینا ضروری ہے۔ان کے ساتھ چمٹ جانا ضروری ہے۔وہ لوگ جن کو خدا دلوں میں محسوس ہونا شروع ہو جائے ان کی زندگیوں کی کا یا پلٹ جاتی ہے۔ان کے غموں ، ان کے دکھوں، ان کے فکروں کی نوعیت بالکل اور ہو جاتی ہے۔یہ ساری حقیقتیں ان کو عارضی دکھائی دیتی ہیں اور اس وقت یہ آیت بجائے خوف کے ایک اور خوشخبری لے کر ان کے لئے آتی ہے اور وہ یہ ہے كُلُّ مَنْ عَلَيْهَا فَانِ یعنی یہ تنبیہ کی بجائے باخدا لوگوں کے لئے خوشخبری بن جاتی ہے۔وہ سمجھتے ہیں کہ یہ دکھ بھی سارے عارضی ہیں دنیا کی حقیقتیں ساری بے معنی ہیں۔جو چیزیں ہمیں حاصل نہیں ہوئیں انہوں نے کب باقی رہنا ہے۔جو دوسروں نے ہتھیالی ہیں یا قبضہ کر بیٹھے ہیں، وہ ان پر کب تک رہیں گے؟ آخر ہر ایک نے اس دنیا سے چلے جانا ہے اور خدا تعالیٰ کے حضور حاضر ہو جانا ہے۔وہاں اگر کوئی چیز کام آئے گی تو وَجْهُ رَبَّكَ کام آئے گا۔یعنی خدا کی رضا ہے جو تمہارے کام آسکتی ہے۔باقی ساری چیزیں اس دنیا میں پیچھے رہ جائیں گی اور جو پیچھے رہ جائیں گی وہ بھی فنا ہو جائیں گی ، کچھ بھی باقی نہیں رہے گا۔پس یہ آیت بظاہر شروع میں کم سے کم ایک ایسے شخص کو جس کو خدا کا عرفان حاصل نہیں ، ڈراتی ہے اور بہت ہی خوفناک اعلان دکھائی دیتا۔گل مَنْ عَلَيْهَا فَانٍ جب انسان وَجْهُ رَبَّكَ سے تعلق جوڑ لے اور سہارا خدا کی ذات کا لے، تو اچانک یہ آیت جو پہلے ڈراتی ہوئی دکھائی دیتی تھی ایک خوشخبری میں تبدیل ہو جاتی ہے۔پھر انسان کو صبر کی بھی توفیق ملتی ہے۔پھر انسان یہ سمجھتا ہے کہ میں تو خدا کا ہو چکا، خدا کی رضا میں نے دل میں بسا لی۔خدا کی رضا کی لذت محسوس کرنے لگا ہوں یہ تکلیفیں جو ہیں یہ عارضی ہیں ان کی کوئی حقیقت نہیں ہے، انہوں نے لازماً فنا ہو جانا ہے مگر میری لذت ہمیشہ باقی رہے گی۔میرے سکون کو دنیا کی کوئی طاقت مجھ سے چھین نہیں سکتی۔یہ آیت کریمہ پیغام دینے لگ جاتی ہے۔اور جب تک ہم اس تجربے سے نہ گزریں، ہم اہل یورپ کی زندگیوں کو تبدیل نہیں کر سکتے ی دلیل نہیں کر سکتے