خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 302 of 845

خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 302

خطبات طاہر جلد ۹ 302 خطبہ جمعہ ارجون ۱۹۹۰ء کے خط تو پھر دنوں کے حساب لے کر آتے ہیں کہ آج میری شادی کو میں سال اتنے دن ہو چکے ہیں اور آج تک میں اولاد سے محروم ہوں۔حالانکہ امر واقعہ یہ ہے کہ اگر کوئی خدا تعالی کی ہستی پر سچا ایمان رکھتا ہو اور کائنات کا شعور رکھتا ہو، موت و حیات کے فلسفے سے آگاہ ہو ، اگر قرآن کریم کی اس آیت پر اس کی نظر ہو کہ كُلِّ مَنْ عَلَيْهَا فَانٍ وَيَبْقَى وَجْهُ رَبِّكَ ذُو الْجَلْلِ وَالإِكْرَامِ تو اولاد کی تمنا اپنی جگہ ٹھیک ہے لیکن اولاد کے نہ ہونے کے نتیجے میں ویسی بے قراری اس شخص کو نہیں ہوسکتی، جیسی ایک بے دین شخص کو ہوتی ہے۔وہ زیادہ تیزی کے ساتھ خدا کی طرف جھکے گا اور خدا کی رضا حاصل کر کے اپنی ذات کو خدا کی ذات میں ایک دوام بخشے گا۔خدا کی رضا کے ذریعے اپنے آپ کو ہمیشہ کی زندگی عطا کر سکتا ہے اور جس کو خدا تعالیٰ کی ذات نصیب ہو جائے اس کے دلوں کے خلا یقیناً دور ہو جایا کرتے ہیں۔دنیا کی کمزوریاں ، دنیا کی محرومیاں دکھائی تو دیتی ہیں، محسوس بھی ہوتی ہیں لیکن بے حقیقت بن کر۔اس کے برعکس جو دنیا میں ڈوب جاتے ہیں، انہیں دنیا کے غم اور دنیا کی تکلیفیں اتنی بڑی دکھائی دیتی ہیں کہ ان کے وجود پر قبضہ کر لیتی ہیں ان کو گرا دیتی ہیں۔بعض دفعہ اپنے پاؤں تلے مسلتی چلی جاتی ہیں اور ایسے اشخاص کی ساری زندگیاں دکھوں اور مصیبتوں میں کٹتی ہیں۔پس اگر آپ نے حقیقت میں تسکین پانے کا گر سیکھنا ہے، اگر آپ کو حقیقی تسکین کی تلاش ہے تو یا د رکھیں کہ تسکین بقاء سے نصیب ہوا کرتی ہے۔ہر وہ دکھ جس کو آپ محرومی کہتے ہیں اس کا کسی نہ کسی شکل میں موت سے تعلق ہے۔ہر وہ چیز جس کو آپ خوشی کہتے ہیں اس کا کسی نہ کسی شکل میں بقاء سے تعلق ہے۔یہ مضمون بہت تفصیلی مطالعہ کا محتاج ہے اور اس موقعہ پر یہ مناسب نہیں ہوگا کہ اس کی تفاصیل میں جا کر میں آپ کو دکھاؤں کہ کس طرح ہر محرومی اور ہر دکھ کا کسی نہ کسی شکل میں موت سے تعلق ہے اور ہر خوشی کا اور ہر حصول کا کسی نہ کسی رنگ میں زندگی سے تعلق ہے لیکن ہے یہی کچھ حقیقت اس کے سوا اور کوئی حقیقت نہیں۔اس پہلو سے جب خدا تعالیٰ نے یہ بتا دیا کہ وَجْهُ رَبَّكَ کو بقاء ہے اور اسے کوئی زوال نہیں ہے تو اتنی گہری حقیقت ہے، ایسا عظیم عرفان کا خزانہ عطا کر دیا گیا ہے کہ جس سے بڑھ کر دولت نصیب ہی نہیں ہو سکتی۔لیکن چونکہ انسان خدا تعالیٰ کے وجہ کو کوئی اہمیت نہیں دیتا ، اور دنیا