خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 301 of 845

خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 301

خطبات طاہر جلد ۹ 301 خطبہ جمعہ ارجون ۱۹۹۰ء أَلَا بِذِكْرِ اللهِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوبُ (الرعد: ۲۹) خبردار ! اگر تم دلوں کی سکنیت چاہتے ہو، طمانیت چاہتے ہو، تو یا درکھنا کہ ذکر الہی کے سوا تمہیں کبھی سکون نصیب نہیں ہوسکتا۔پس تسکین کی راہ بھی وہی ہے جو بقا کی راہ ہے اور دراصل یہ ایک دوسرے کے مختلف نام ہیں۔تسکین اور بقا حقیقت میں ایک ہی چیز کے دو نام ہیں اور یہ دونوں چیزیں خدا تعالیٰ کی ذات سے وابستہ ہیں۔اگر ہم اس مضمون کو سمجھیں اور غور کریں تو ہماری زندگی کے نقشے بدل جائیں۔کتنے بے چین لوگ ہیں جو اس یورپ میں بس رہے ہیں، جو دنیا کے لحاظ سے ترقی کے آخری زمینوں پر دکھائی دیتے ہیں، اگر چہ ترقی کا کوئی آخری زینہ نہیں لیکن نیچے سے جب تیسری دنیا کی قومیں ان کو دیکھتی ہیں تو یوں لگتا ہے کہ جیسے یہ آسمان سے باتیں کر رہے ہیں لیکن یہاں بھی آپ ان کے سینے ٹول کر دیکھیں ان میں دانشور ہوں یا غیر دانشور ہوں، مزدور ہوں یا مالک ہوں، سب بے چین ہیں، کسی کو چین نصیب نہیں ہے۔آپ احمدیت کے نمائندہ بن کر اس ملک میں یہ پیغام لے کر آئے ہیں کہ اگر تم چین چاہتے ہو تو ہم سے حاصل کرو۔ہم تمہیں چین کی راہ دکھاتے ہیں، ہم تمہیں سکینت کا خزانہ عطا کر سکتے ہیں اور احمدیت کے پیغام میں، جو حقیقی اسلام ہے، دراصل یہی پیغام ہے۔لیکن یہ کہنے کے بعد اگر ہم دیانتداری سے اپنے نفوس کا جائزہ لیں ، اپنے قلبی حالات کا جائزہ لیں، تو ہمیں معلوم ہوگا کہ ہم میں سے اکثر سکینت کے لحاظ سے خالی برتن ہیں۔یہ درست ہے کہ دنیا میں سو قسم کی بے اطمینانی پیدا کرنے والی وجوہات موجود ہیں اور بسا اوقات ایسی تمنائیں ہیں جو پوری نہیں ہوسکتیں لیکن ان سب حسرتوں کا دکھ دور کرنے کا علاج بھی انہیں آیات میں ہے۔أَلَا بِذِكْرِ اللَّهِ تَطْمَإِنَّ الْقُلُوبُ يَبْقَى وَجْهُ رَبَّكَ ذُو الْجَلْلِ وَالْإِكْرَامِ مثلاً وہ بے چین مائیں جو اولاد سے محروم رہتی ہیں، وہ بے قرار ہو ہو کر خط لکھتی ہیں لکھتی چلی جاتی ہیں۔بعض دفعہ ایسے دردناک خط ملتے ہیں کہ اس کے نتیجے میں دعا کی تحریک بھی خاص ہوتی ہے۔بعض دفعہ خدا بشارت عطا فرماتا ہے بعض دفعہ قبولیت دعا کے آثار انسان دیکھ لیتا ہے اور بعض دفعہ نہ وہ دعا کا جذبہ پیدا ہوتا ہے، نہ قبولیت کے آثار دکھائی دیتے ہیں وہ معاملے اسی طرح لٹکتے چلے جاتے ہیں اور وہ روحیں جو اپنی تمناؤں سے محروم رہتی ہیں۔وہ بے چین رہتی ہیں اسی طرح بے قراری میں دن گزارتی چلی جاتی ہیں۔بلکہ بعض عورتوں